اشاعتیں

مارچ, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عید الفطر کی رحمت: کیسے ایک خط نے بدل دی امریکی شہری کی تقدیر؟

تصویر
عید الفطر کی خوشیاں جہاں دنیا بھر کے مسلمان اپنے پیاروں کے ساتھ منا رہے تھے، وہیں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک ماں کے دل کی آواز نے ایک بیٹے کی ۴۲۱ روزہ جدائی کو خوشی میں بدل دیا۔ ڈینس کوائل، جو جنوری ۲۰۲۵ء سے طالبان کی حراست میں تھے، ان کی والدہ کے ایک خط نے ان کی رہائی کی راہ ہموار کی. ڈینس کوائل کی والدہ کا خط: عید الفطر کی رحمت طالبان کی وزارت خارجہ کے مطابق، ڈینس کوائل کی والدہ نے خود افغانستان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ کو خط لکھا جس میں انہوں نے عید الفطر کے موقع پر اپنے بیٹے کی رہائی اور معافی کی درخواست کی۔ یہ خط محض ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ ایک ماں کے دل کی ٹھوکر تھی جس نے ۴۲۱ روز کی جدائی کی کہانی سنائی. افغانستان کی سپریم کورٹ نے اس درخواست پر غور کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ڈینس کوائل کی حراست کی مدت کافی ہے اور انہیں رہا کیا جائے۔ طالبان حکومت نے اس فیصلے کو "انسانی ہمدردی اور حسن نیت" قرار دیا. رہائی کی تیاری: کابل ایئرپورٹ کا تاریخی لمحہ کابل ایئرپورٹ پر منگل کے روز ایک منظر ایسا تھا جسے شاید ہی کوئی بھلا سکے۔ ڈینس کوائل، جو ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے ...

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟

تصویر
  سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دینا امریکی انتظامیہ کا ایک اہم اور تاریخی قدم ہے۔ ۹ مارچ ۲۰۲۶ کو امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ سوڈان کی اخوان المسلمین کو "خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد" قرار دیا جا رہا ہے اور ۱۶ مارچ سے اسے "غیر ملکی دہشت گرد تنظیم" کے طور پر باقاعدہ طور پر شامل کر لیا جائے گا ۔ اس فیصلے کے بعد سوڈان کے عوام میں جشن کی فضا ہے اور دارفور کے شہر نیالہ میں ٹرمپ کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں ۔ سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد کیوں قرار دیا گیا؟ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، سوڈان کی اخوان المسلمین شہریوں کے خلاف بے تحاشا تشدد کر رہی ہے اور سوڈان کے تنازع کو ختم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق، یہ تنظیم "اپنے شدت پسند اسلام ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے شہریوں کے خلاف بلا امتیاز تشدد کرتی ہے" ۔ اس تنظیم کے جنگجوؤں نے شہریوں کا اجتماعی قتل عام کیا ہے اور نسلی بنیادوں پر افراد کو نشانہ بنایا ہے۔ The U.S Government designated the Egyptian, Lebanese and Jordanian branches of the Muslim Brotherhood as...

ٹرمپ کو بڑا دھچکا: اتحادی ممالک کا آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے سے انکار

تصویر
  آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک سے اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت کے لیے بحری جہاز بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کا مطالبہ اور جاپان آسٹریلیا کا انکار نے امریکی انتظامیہ کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ کے تیسرے ہفتے میں یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے  ۔ جاپان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے سے انکار کیوں کیا؟ جاپان کی وزیر اعظم سانائی تاکاچی نے پیر کو پارلیمنٹ میں واضح کیا کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں بحری جہاز بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا، " ہم نے بحری جہاز بھیجنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ ہم مسلسل جائزہ لے رہے ہیں کہ جاپان اکیلے کیا کر سکتا ہے اور قانونی فریم ورک کے اندر کیا کیا جا سکتا ہے"  ۔ جاپان کا آئین، جو جنگ سے دستبرداری کی روایت رکھتا ہے، اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جاپان کی ۹۵ فیصد تیل کی ضروریات خلیج سے پوری ہوتی ہیں اور اس کا ۷۰ فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، لیکن اس کے باوجود ٹوکیو فوجی مداخلت سے گر...

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

تصویر
سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل لگانے کے فیصلے نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ واشنگٹن کی طرف سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب سوڈان پہلے ہی خانہ جنگی اور انسانی بحران کی نظر ہو رہا ہے۔ خرطوم سے بیجنگ تک، اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ چین اور روس سمیت متعدد ممالک نے امریکی اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکہ نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟ اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل کیوں لگایا گیا؟ امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ سوڈان کی موجودہ حکومت میں اخوان المسلمون کے عناصر شامل ہیں جو علاقائی عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ تاہم، سوڈانی حکام نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور اس فیصلے کو یکطرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ درحقیقت، سوڈان گزشتہ دو برسوں سے خانہ جنگی کی نظر ہو چکا ہے۔ فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان جھڑپو...

ایران کا خاتمہ: کیا مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا؟

تصویر
  تہران: جب ۲۸ فروری ۲۰۲٦ کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای کو نشانہ بنایا تو کسی نے شاید اندازہ نہیں لگایا ہو گا کہ مشرق وسطیٰ ایک ایسے سنگم پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔  ایران کے ممکنہ خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نیا رخ اختیار کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک نئے عہد کا آغاز دیکھ رہے ہیں، یا ایران کا سیاسی ڈھانچہ اپنی تاریخ کے مشکل ترین امتحان کا سامنا کر رہا ہے؟ اگر ایران کا نظام گر جائے تو مشرق وسطیٰ میں کیا تبدیلی آئے گی؟ پروفیسر برنارڈ ہیکل، جو پرنسٹن یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے مطالعے کے ماہر ہیں، کا خیال ہے کہ ایرانی حکومت، اپنی موجودہ کمزوری کے باوجود، موجودہ جنگ سے نکل سکتی ہے۔  لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور نظام گر گیا تو صورتحال عراق، لیبیا اور شام سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔  ان ممالک کی طرح ایران میں بھی مرکزی حکومت کے زوال کا مطلب صرف سیاسی تبدیلی نہیں ہو گا بلکہ نسلی اور فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ ایران میں فا...

From Khartoum to Tehran: How the SAF's Islamist Alliance Threatens Global Stability

تصویر
The international order is facing a volatile new reality: a faction of the Sudanese Armed Forces (SAF) has openly declared its allegiance to the "Axis of Resistance." The recent video statement by Al-Naji Abdullah, a hardline Islamist commander operating within SAF-aligned battalions, pledging thousands of Sudanese fighters to defend Iran against the US and Israel, has global implications that extend far beyond the Horn of Africa. While the SAF leadership in Port Sudan attempts to manage the diplomatic fallout, the deepening SAF Islamist Iran ties signal a dangerous shift in global proxy dynamics, threatening to internationalize Sudan's civil war and provide a new base for Tehran's influence on the African continent. Is Sudan Becoming a New Proxy for Iran in Africa? The evidence points to yes. Since normalizing relations in 2023, Iran has reportedly supplied the SAF with drones and weaponry, embedding itself in the conflict . However, the rhetoric from commanders like...