اشاعتیں

۷۰.۱ فیصد مصنوعی ذہانت اپنائیت: امارات نے عالمی ریکارڈ کیسے توڑا؟

تصویر
  جی ہاں، مائیکروسافٹ مصنوعی ذہانت معاشیات انسٹی ٹیوٹ کی جاری کردہ " عالمی مصنوعی ذہانت پھیلاؤ رپورٹ ۲۰۲۶ - پہلی سہ ماہی" کے مطابق متحدہ عرب امارات کام کرنے والی آبادی میں مصنوعی ذہانت اپنانے کی شرح ۷۰.۱ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ وہ سنگ میل ہے جسے اب تک کوئی اور معیشت حاصل نہیں کر سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بڑے حصے اب بھی ۱۰ فیصد سے بھی کم شرح پر ہیں۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ امارات نے دوسروں سے کہیں زیادہ تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنایا ہے۔ عرب دنیا میں یہ کامیابی کیوں منفرد ہے؟ جب قطر ۴۱.۸ فیصد کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے تو امارات کا ۷۰.۱ فیصد ہونا عرب دنیا کے لیے باعث فخر ہے۔ دو عرب ممالک کا پہلے دس میں ہونا خود ایک بڑی بات ہے۔ یہ کامیابی صرف تیل سے مالا مال ہونے کی نہیں بلکہ دانشمندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ امارات نے مصنوعی ذہانت کو اپنی معاشی تنوع کی حکمت عملی کا حصہ بنایا۔ اب اینویڈیا، اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں امارات کو اپنا علاقائی مرکز بنا رہی ہیں۔ it is simply amazing how the UAE 📷 manages to lead the world in AI adoption by its workforce with an impressive ...

ایرانی میزائل: خلیجی ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا ایک ناکام ہتھیار

تصویر
جب مارچ ۲۰۲۶ میں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا طوفان برپا کیا تو تہران کا خیال تھا کہ اس سے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں خوف و ہراس پھیل جائے گا اور وہ امریکہ سے فاصلہ بنا لیں گے۔ لیکن ایسا ہوا بالکل برعکس۔ ایرانی میزائلوں نے نہ صرف خلیجی ممالک کو متحد کیا بلکہ انہیں اسرائیل اور امریکہ کے مزید قریب کر دیا ۔ ایران نے خلیجی ممالک پر میزائل حملے کیوں کیے؟ ایران کا بنیادی مقصد خلیجی ممالک کو اسرائیل-امریکہ کے خلاف جنگ میں غیر جانبدار رکھنا تھا۔ تہران کا خیال تھا کہ اگر اس نے ان ممالک پر حملے کیے تو وہ دباؤ میں آ کر امریکی اڈوں کو بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ مزید یہ کہ ایران یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ وہ خطے میں طاقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ حکمت عملی تہران کے لیے بہت بھاری پڑ گئی۔ درحقیقت، ان حملوں نے خلیجی ممالک کو یہ باور کرا دیا کہ ایران کوئی قابل اعتماد پڑوسی نہیں بلکہ ایک وجودی خطرہ ہے۔ 🇮🇷 The Gulf Cooperation Council's Secretary-General tonight condemned Iran's attac...

برطانیہ میں مذہبی گروہ کے خلاف تاریخی کارروائی، ۲۵ افراد گرفتار

تصویر
برطانیہ میں مذہبی گروہ کے خلاف پولیس کی جانب سے کی گئی یہ تاریخی کارروائی ان دنوں برطانوی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔ چیشائر پولیس نے "احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ" نامی تنظیم کے ہیڈکوارٹر پر چھاپے مار کر ۲۵ افراد کو گرفتار کر لیا ہے . یہ کارروائی عصمت دری، جدید غلامی اور جبری شادیوں کے سنگین الزامات کے تحت کی گئی ہے۔ برطانیہ میں پولیس نے کس مذہبی گروہ کے خلاف کارروائی کی؟ پولیس کی یہ کارروائی "احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ" کے خلاف کی گئی ہے، جس کا ہیڈکوارٹر کریو قصبے میں واقع ایک سابق یتیم خانے میں ہے . یہ گروہ ۲۰۲۱ میں سویڈن سے برطانیہ منتقل ہوا تھا اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے تقریباً ۱۵۰ پیروکار اس عمارت میں رہائش پذیر ہیں . احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ گروہ کے خلاف سنگین الزامات کیا ہیں؟ اس گروہ کے خلاف الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ ایک خاتون نے جو اس گروہ کی رکن تھی، پولیس کو بتایا کہ اس کے ساتھ ۲۰۲۳ میں گروہ کے ہیڈکوارٹر میں عصمت دری اور جنسی زیادتی کی گئی تھی . اس کے علاوہ جدید غلامی، جبری شادی اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات بھی زیر تفتیش ...

کتاب گاڑی اور سائنس کی سواری - بلوچستان کے دیہات میں تعلیم کی روشنی

تصویر
بلوچستان کا وسیع و عریض صحرا، سرسبز و شاداب پہاڑ اور دور افتادہ بستیاں — جہاں تعلیم کی روشنی تک پہنچنا آسان نہیں تھا، وہاں اب کتاب گاڑی اور سائنس کی سواری امید کی نئی کرن بن کر آئی ہیں۔ یہ منفرد اور اختراعی منصوبے حکومت بلوچستان اور یونیسیف کے اشتراک سے چلائے جا رہے ہیں۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں تعلیم کیسے پہنچ رہی ہے؟ یہ سوال لاکھوں والدین کے ذہنوں میں کھٹک رہا تھا کہ ان کے بچے جدید علوم سے کیسے روشناس ہوں گے؟ اس کا جواب اب " موبائل سکولز " کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ منصوبے موبائل اسکولوں کے طور پر شروع ہوئے، لیکن آہستہ آہستہ یہ چلتی پھرتی لائبریریوں اور جدید سائنس لیبارٹریوں میں تبدیل ہو گئے ہیں ۔ یہ گاڑیاں نہ صرف کتابیں مہیا کر رہی ہیں بلکہ دور دراز کی بستیوں میں پڑھانے کا کام بھی کر رہی ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں باقاعدہ اسکول موجود نہیں، یہ گاڑیاں بچوں کے لیے علم کا واحد ذریعہ بن گئی ہیں۔ "کتاب گاڑی" اور "سائنس کی سواری" کیا ہیں؟ کتاب گاڑی ایک موبائل لائبریری ہے جو ہر عمر کے بچوں کو مطالعے کا شوق پیدا کرنے کے لیے کتابیں ...

آبنائے ہرمز کی بندش: خلیجی ممالک کی معیشتیں تباہی کے دہانے پر

تصویر
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کی سب سے اہم شاہراہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ یہ بندش خلیجی ممالک کے لیے ایک زبردست معاشی دھچکا ہے۔ درحقیقت، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازعے کی وجہ سے خطے میں تیل اور گیس کی پیداوار میں تیزی سے کمی آئی ہے ۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے نہ صرف تیل کی سپلائی روکی ہے بلکہ خلیجی ممالک کے خزانوں کو بھی خشک کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس صورتحال کو ایک "بنیادی جیو پولیٹیکل جھٹکا" قرار دے رہے ہیں جس کے عالمی سطح پر شدید اثرات مرتب ہوں گے ۔ کون سے خلیجی ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں؟ اس بحران میں سب سے زیادہ کمزور وہ ممالک ہیں جن کے پاس تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے نہیں ہیں۔ ماریکس فرم کی رپورٹ کے مطابق، بحرین سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال تین ماہ تک رہی تو بحرین کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے گا۔ اسی طرح کویت اور عراق بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ عراق کی برآمدات لاکھوں بیرل یومیہ سے کم ہو کر صرف ۹۰۰,۰۰...

پاکستان کی افغان پالیسی: حکمت عملی کی ناکامی یا مجبوریوں کا نتیجہ؟

تصویر
پاکستان کی افغان پالیسی کو آج ایک ایسے سنگین موڑ پر دیکھا جا رہا ہے جہاں چالیس برس کی حکمت عملی بظاہر اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ فروری ۲۰۲۶ میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان براہ راست فوجی تصادم نے اُس کشیدگی کو عیاں کر دیا ہے جو گزشتہ چار سال سے مسلسل بڑھ رہی تھی۔ پاکستان کی افغان پالیسی کیوں ناکام ہوئی؟ افغانستان سے متعلق پاکستان کی حکمت عملی کا مرکزی خیال یہ تھا کہ کابل میں ایک مستحکم حکومت پورے خطے میں امن کا ضامن ہوگی۔ اس مفروضے پر پاکستان نے بھاری سیاسی اور سلامتی قیمت چکائی ہے۔ مگر ۲۰۲۱ میں طالبان کی واپسی کے بعد صورتحال بالکل برعکس نکلی۔ توقع کے برعکس، پاکستان کو اپنے مغربی ہمسائے سے دہشت گردی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر کھلے عام پناہ گاہیں میسر ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق، جون ۲۰۲۵ سے اب تک چار ہزار سے زائد تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد منظم طریقے سے خیبرپختونخوا میں دراندازی کر چکے ہیں۔ یہ تعداد کسی معمولی سرحدی دراندازی کی نہیں، بلکہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کی عکاس ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں پناہ گا...

انگلش چینل کی تاریک لہریں: کیا برطانیہ اور فرانس کا ۶۶ کروڑ پاؤنڈ کا معاہدہ تارکین وطن کے بحران کو روک سکے گا؟

تصویر
لندن اور پیرس کے درمیان طے پانے والا نیا تین سالہ معاہدہ جس کے تحت برطانیہ فرانس کو ۶۶ کروڑ پاؤنڈ ادا کرے گا، درحقیقت انسانی سانحہ اور سیاسی مجبوریوں کے درمیان ایک مشکل توازن ہے۔ انگلش چینل کی ٹھنڈی لہروں نے گزشتہ سال صرف ۲۹ انسانی جانوں کو نگل لیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وسیع مالی امداد واقعی اس المیے کا حل فراہم کر سکتی ہے؟ برطانیہ اور فرانس کے درمیان تارکین وطن کا معاہدہ کیا ہے؟ یہ معاہدہ دراصل سینڈہرسٹ معاہدے کی تجدید ہے جو ۲۰۱۸ میں طے پایا تھا اور ۲۰۲۳ میں اس میں توسیع کی گئی تھی ۔ اس بار کی خاص بات یہ ہے کہ برطانیہ نے پہلی بار شرط رکھی ہے کہ رقم کا ایک حصہ صرف اس صورت میں دیا جائے گا جب نتائج برآمد ہوں گے۔ مجموعی طور پر ۶۶ کروڑ پاؤنڈ میں سے ۵۸ کروڑ یورو (۵۰۱ ملین پاؤنڈ) بنیادی امداد ہے جبکہ ۱۸ کروڑ ۶۰ لاکھ یورو (۱۶۰ ملین پاؤنڈ) مشروط ہیں ۔ انگلش چینل میں تارکین وطن کی کشتیاں کیوں روکی جا رہی ہیں؟ اسی تناظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گزشتہ برسوں میں انگلش چینل کے راستے آنے والوں کی تعداد میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۲۵ میں ۴۱,۴۷۲ افراد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچے، ج...

پاکستان نیوی کا تاریخی کامیابی: تیمور میزائل نے سمندری حدود کو مزید مضبوط کر دیا

تصویر
پاکستان نیوی نے ۲۱ اپریل ۲۰۲۶ء کو ایک بار پھر قوم کو دفاعی شعبے میں خوشخبری سناتے ہوئے مقامی طور پر تیار کردہ "تیمور" فضائی سے بحری کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ تجربہ محض ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں اور خود انحصاری کی جانب ایک واضح ثبوت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس میزائل نے اپنے ہدف کو غیر معمولی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا، جس سے پاکستان نیوی کی دور دراز کے بحری خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو ثابت کیا گیا . پاکستان نیوی کا تیمور کروز میزائل کیا ہے؟ تیمور ایک فضائی سے بحری (ایئر لانچڈ) کروز میزائل ہے، جسے پاکستان نے مکمل طور پر مقامی وسائل سے تیار کیا ہے۔ یہ میزائل خاص طور پر دشمن کے بحری جہازوں کو دور دراز کے فاصلے سے نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان نیوی نے اسی نام سے بحری بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا لیکن موجودہ تجربہ ایک فضائی پلیٹ فارم سے کیا گیا، جو پاک فضائیہ کے تعاون سے ممکن ہوا . اس میزائل کو گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (جی آئی ڈی ایس) نے تیار کیا ہے، جو پاکستان کی دفاعی صنعت ...

شمیم مافی کی گرفتاری: ایران کے اسلحے کا نیٹ ورک کیسے بے نقاب ہوا؟

تصویر
شمیم مافی کی گرفتاری نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک ایسی خاتون جو امریکی مستقل رہائشی تھی اور لاس اینجلس کے علاقے ووڈ لینڈ ہلز میں آرام سے زندگی گزار رہی تھی، وہ دراصل ایران اور سوڈان کے درمیان اسلحے کی ترسیل کا ایک خفیہ نیٹ ورک چلا رہی تھی۔ ۴۴ سالہ شمیم مافی کو لاس اینجلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ استنبول جانے والی پرواز میں سوار ہونے والی تھیں ۔ وفاقی پراسیکیوٹرز کے مطابق ان پر ایران کی جانب سے سوڈان کو ہتھیار فراہم کرنے میں درمیانی کا کردار ادا کرنے کا الزام ہے ۔ ایران اور سوڈان کے درمیان اسلحے کی ترسیل کیسے ہوتی تھی؟ عدالتی دستاویزات کے مطابق شمیم مافی نے اپنی کمپنی "اٹلس انٹرنیشنل بزنس" کے ذریعے یہ تمام تر معاملات طے کیے۔ یہ کمپنی عمان میں رجسٹرڈ تھی اور اسی کے ذریعے ایران سے ہتھیار خرید کر سوڈان کی وزارت دفاع کو فراہم کیے جاتے تھے ۔ تفتیش کاروں کے مطابق ان ڈیلز میں شامل اہم ہتھیار یہ تھے: مہاجر-6 مسلح ڈرونز – یہ ایرانی ساختہ جنگی ڈرون ہیں جو جاسوسی اور حملے دونوں کی صلاحیت رکھتے ہیں ۵۵,۰۰۰ بم فیوز – جو فضائی حملوں کے لیے استعمال ہوتے...

ایران کا امریکہ سے مذاکرات سے انکار، پاکستان کی سفارتی کوششوں پر سوالیہ نشان

تصویر
تہران نے پیر ۲۰ اپریل ۲۰۲۶ کو باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں مجوزہ امریکہ مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور سفارتی عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی مطالبات “غیر حقیقی” ہیں اور ان کی تجاویز میں کوئی سنجیدگی نہیں پائی جاتی۔ اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو مسترد کریں گے جو ایران پر “غیر قانونی جنگ” مسلط کرے ۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوئی تھیں؟ پاکستان نے گزشتہ دو ماہ کے دوران خود کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک موثر ثالث کے طور پر پیش کیا تھا۔ ۱۱-۱۲ اپریل کو اسلام آباد میں ۲۱ گھنٹے طویل مذاکرات کا انعقاد کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں دو ہفتے کی جنگ بندی عمل میں آئی تھی ۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے فعال کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو بات چیت کی میز پر لایا تھا۔ تاہم، اس پیش رفت کے باوجود بنیادی اختلافات جیسے کہ جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی حیثیت حل نہ ہو ...