برطانیہ میں مذہبی گروہ کے خلاف تاریخی کارروائی، ۲۵ افراد گرفتار
برطانیہ میں مذہبی گروہ کے خلاف پولیس کی جانب سے کی گئی یہ تاریخی کارروائی ان دنوں برطانوی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔ چیشائر پولیس نے "احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ" نامی تنظیم کے ہیڈکوارٹر پر چھاپے مار کر ۲۵ افراد کو گرفتار کر لیا ہے . یہ کارروائی عصمت دری، جدید غلامی اور جبری شادیوں کے سنگین الزامات کے تحت کی گئی ہے۔
برطانیہ میں پولیس نے کس مذہبی گروہ کے خلاف کارروائی کی؟
پولیس کی یہ کارروائی "احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ" کے خلاف کی گئی ہے، جس کا ہیڈکوارٹر کریو قصبے میں واقع ایک سابق یتیم خانے میں ہے . یہ گروہ ۲۰۲۱ میں سویڈن سے برطانیہ منتقل ہوا تھا اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے تقریباً ۱۵۰ پیروکار اس عمارت میں رہائش پذیر ہیں .
احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ گروہ کے خلاف سنگین الزامات کیا ہیں؟
اس گروہ کے خلاف الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ ایک خاتون نے جو اس گروہ کی رکن تھی، پولیس کو بتایا کہ اس کے ساتھ ۲۰۲۳ میں گروہ کے ہیڈکوارٹر میں عصمت دری اور جنسی زیادتی کی گئی تھی . اس کے علاوہ جدید غلامی، جبری شادی اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات بھی زیر تفتیش ہیں .
یہی وجہ ہے کہ چیشائر پولیس نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور تقریباً ۵۰۰ افسران پر مشتمل ٹیم کو فیلڈ کیا۔
چیشائر پولیس کی چھاپے میں کتنے افراد گرفتار ہوئے؟
پولیس نے ابتدائی طور پر ۹ افراد کو حراست میں لیا تھا جن پر مذکورہ سنگین الزامات تھے . تاہم بعد ازاں چھاپے کے دوران مزید ۲۵ افراد کو پبلک آرڈر کی خلاف ورزیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان سب کو عدالت میں پیش کیا جائے گا .
گرفتار افراد میں کون کون سے ممالک کے شہری شامل ہیں؟
اس کارروائی میں گرفتار افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے جس سے اس گروہ کی بین الاقوامی نوعیت کا پتہ چلتا ہے۔ گرفتار افراد میں شامل ہیں:
۷ برطانوی شہری
۲ امریکی شہری
۶ یورپی ممالک (بیلجیم، فرانس، جرمنی، سویڈن) کے شہری
مصر، ایران، ملائیشیا، ٹوباگو، عراق، آذربائیجان اور مراکش کے شہری
یہ تنوع ظاہر کرتا ہے کہ یہ گروہ بین الاقوامی سطح پر پھیلا ہوا ہے اور مختلف ثقافتوں کے لوگ اس کا حصہ ہیں۔
مذہبی گروہ کے خلاف انکوائری کا آغاز کیسے ہوا؟
اس پوری انکوائری کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک خاتون، جو اس وقت آئرلینڈ میں مقیم ہے، نے پولیس سے رابطہ کیا۔ اس نے بتایا کہ ۲۰۲۳ میں جب وہ اس گروہ کی رکن تھی، اس کے ساتے گروہ کے ہیڈکوارٹر میں عصمت دری اور جنسی زیادتی کی گئی . اس رپورٹ کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کی جو آج اس بڑی کارروائی تک پہنچی۔
پولیس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ یوروپول اور سویڈش پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے .
کیا یہ انکوائری پوری مذہبی جماعت کے خلاف ہے؟
یہاں ایک انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ انکوائری کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔
چیف سپرنٹنڈنٹ گیرتھ رگلی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا:
"اگرچہ گرفتار افراد اس گروہ کے ارکان ہیں، میں واضح کرنا چاہوں گا کہ یہ مذہب کے خلاف انکوائری نہیں ہے؛ یہ ان سنگین الزامات کی انکوائری ہے جو ہمیں رپورٹ کیے گئے ہیں۔"
یہ بیان اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے پوری برادری کو بدنام کرنے کے بجائے انفرادی مجرموں کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔
🇬🇧 Over 500 police officers raided a religious compound in England
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) April 29, 2026
9 members of the Ahmadi Religion of Peace and Light arrested for human trafficking, rape, forced marriage, and modern-day slavery
150 people were living inside the property, 56, childrenpic.twitter.com/n92S4zKv54
احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ گروہ کا پس منظر کیا ہے؟
احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ کو ۲۰۱۵ میں ایک مصری-امریکی شہری عبداللہ ہاشم نے قائم کیا تھا . یہ گروہ خود کو امن پسند اور حقوقِ انسانی کا حامی قرار دیتا ہے، لیکن اس پر مختلف ممالک میں سخت تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گروہ سویڈن سے برطانیہ کیوں منتقل ہوا؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق سویڈن میں ویزا کے مسائل کے بعد یہ گروہ ۲۰۲۱ میں برطانیہ آیا اور کریو میں واقع سابقہ یتیم خانے "ویب ہاؤس" کو اپنا ہیڈکوارٹر بنایا .
کیا اس گروہ کے خلاف پہلے بھی تحقیقات ہوئی ہیں؟
جی ہاں، اس گروہ کے خلاف پہلے بھی برطانیہ میں تحقیقات ہو چکی ہیں۔ گارڈین اخبار کے مطابق ہوم آفس نے اس گروہ کے اسکلڈ ورکر ویزوں کے استعمال کی بھی تحقیقات کی تھیں . تاہم گروہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تمام ارکان کی امیگریشن حیثیت قانونی ہے۔
متاثرہ خاتون کی حالت اور بچوں کی حفاظت
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو حفاظت فراہم کر دی گئی ہے اور اس کی مدد کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی، ویب ہاؤس میں رہنے والے ۵۶ بچوں کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں . ان بچوں کو ہوم اسکول کیا جا رہا تھا اور اب مقامی اتھارٹی ان کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔
گروپ کے وکلاء نے ان الزامات کی "شدید تردید" کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے موکل کسی بھی جرم میں ملوث نہیں ہیں .
عالمی اثرات
اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ایک نیا تناظر پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف تو یہ مذہبی آزادی کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے، تو دوسری طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید دور میں بھی مذہبی گروہوں کے اندر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو سکتی ہیں۔
یوروپول اور دیگر یورپی ممالک کے پولیس اداروں کا اس میں شامل ہونا بتاتا ہے کہ یہ صرف برطانیہ کا نہیں بلکہ پورے یورپ کا مسئلہ ہے .
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں اس کیس میں مزید پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔ ۱۰ افراد جو سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیے گئے تھے، انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے جبکہ ۲۵ افراد پبلک آرڈر آفنس کے الزام میں عدالت میں پیش ہوں گے .
درحقیقت، یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کسی بھی مذہبی یا سماجی گروہ میں اگر خلاف ورزیاں ہو رہی ہوں تو قانون کو اپنا کام کرنا چاہیے، اور اس کے لیے مذہب کو نشانہ بنانے کی بجائے انفرادی مجرموں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
FAQs
سوال: برطانیہ میں پولیس نے کس مذہبی گروہ کے خلاف کارروائی کی؟
جواب: پولیس نے "احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ" کے خلاف کارروائی کی، جس کا ہیڈکوارٹر کریو، چیشائر میں واقع ہے .
سوال: اس گروہ کے خلاف کون سے الزامات ہیں؟
جواب: اس گروہ کے خلاف عصمت دری، جنسی زیادتی، جدید غلامی، جبری شادی اور انسانی اسمگلنگ کے سنگین الزامات ہیں .
سوال: کتنی تعداد میں افراد کو گرفتار کیا گیا؟
جواب: پولیس نے کل ۳۴ افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے ۹ پر سنگین الزامات ہیں اور ۲۵ پر پبلک آرڈر کی خلاف ورزیاں ہیں .
سوال: کیا یہ کارروائی پوری مذہبی جماعت کے خلاف ہے؟
جواب: نہیں، پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ انکوائری مذہب کے خلاف نہیں بلکہ انفرادی مجرموں کے خلاف ہے .
سوال: متاثرہ خاتون کون ہے؟
جواب: متاثرہ ایک خاتون ہے جو اس گروہ کی سابق رکن ہے اور اس نے ۲۰۲۳ میں ہونے والے واقعات کی رپورٹ دی .

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know