یورپ کے اندر ایرانی جاسوسی نیٹ ورک: کیا سفارتی چھپ ختم ہونے والی ہے؟
یورپ کی خوبصورت گلیوں اور پارلیمانی عمارتوں میں ایک ایسی جنگ چھڑی ہوئی ہے جسے عام آدمی نہیں دیکھ سکتا۔ یہ جنگ روایتی ہتھیاروں سے نہیں لڑی جا رہی بلکہ سفارتی بیجز، خفیہ ملاقاتوں اور جعلی شناختوں کے ذریعے۔ یہ ایران کی نام نہاد " خاموش جنگ " ہے جو یورپ کے اندر گہرائی تک پھیل چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں یورپی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے متعدد ایسے نیٹ ورکس کا پردہ چاک کیا ہے جو ایرانی سفارت خانوں کی آڑ میں کام کر رہے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپ آخر کار ایران کے اس خفیہ جال کو مکمل طور پر بے نقاب کر پائے گا؟ جب سفارت خانے جاسوسی کے اڈے بن گئے سفارتی مشنز کو بین الاقوامی قانون میں خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ یہ تحفظ وینا کنونشن کے تحت دیا جاتا ہے تاکہ سفارت کار بغیر کسی خوف کے اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔ لیکن ایران نے اس تحفظ کا استعمال اپنے فوجی مقاصد کے لیے کیا ہے۔ ایک خفیہ دستاویز کے مطابق جو حال ہی میں منظر عام پر آئی، یورپ میں تعینات ایران کے متعدد فوجی اتاشی دراصل آئی آر جی سی کے فعال افسران ہیں۔ یہ افراد سفارتی استثنیٰ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپ میں جاسوسی، فنڈ اکٹھا کرنے اور ممکنہ ح...