اشاعتیں

اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کتاب گاڑی اور سائنس کی سواری - بلوچستان کے دیہات میں تعلیم کی روشنی

تصویر
بلوچستان کا وسیع و عریض صحرا، سرسبز و شاداب پہاڑ اور دور افتادہ بستیاں — جہاں تعلیم کی روشنی تک پہنچنا آسان نہیں تھا، وہاں اب کتاب گاڑی اور سائنس کی سواری امید کی نئی کرن بن کر آئی ہیں۔ یہ منفرد اور اختراعی منصوبے حکومت بلوچستان اور یونیسیف کے اشتراک سے چلائے جا رہے ہیں۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں تعلیم کیسے پہنچ رہی ہے؟ یہ سوال لاکھوں والدین کے ذہنوں میں کھٹک رہا تھا کہ ان کے بچے جدید علوم سے کیسے روشناس ہوں گے؟ اس کا جواب اب " موبائل سکولز " کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ منصوبے موبائل اسکولوں کے طور پر شروع ہوئے، لیکن آہستہ آہستہ یہ چلتی پھرتی لائبریریوں اور جدید سائنس لیبارٹریوں میں تبدیل ہو گئے ہیں ۔ یہ گاڑیاں نہ صرف کتابیں مہیا کر رہی ہیں بلکہ دور دراز کی بستیوں میں پڑھانے کا کام بھی کر رہی ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں باقاعدہ اسکول موجود نہیں، یہ گاڑیاں بچوں کے لیے علم کا واحد ذریعہ بن گئی ہیں۔ "کتاب گاڑی" اور "سائنس کی سواری" کیا ہیں؟ کتاب گاڑی ایک موبائل لائبریری ہے جو ہر عمر کے بچوں کو مطالعے کا شوق پیدا کرنے کے لیے کتابیں ...

آبنائے ہرمز کی بندش: خلیجی ممالک کی معیشتیں تباہی کے دہانے پر

تصویر
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کی سب سے اہم شاہراہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ یہ بندش خلیجی ممالک کے لیے ایک زبردست معاشی دھچکا ہے۔ درحقیقت، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازعے کی وجہ سے خطے میں تیل اور گیس کی پیداوار میں تیزی سے کمی آئی ہے ۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے نہ صرف تیل کی سپلائی روکی ہے بلکہ خلیجی ممالک کے خزانوں کو بھی خشک کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس صورتحال کو ایک "بنیادی جیو پولیٹیکل جھٹکا" قرار دے رہے ہیں جس کے عالمی سطح پر شدید اثرات مرتب ہوں گے ۔ کون سے خلیجی ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں؟ اس بحران میں سب سے زیادہ کمزور وہ ممالک ہیں جن کے پاس تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے نہیں ہیں۔ ماریکس فرم کی رپورٹ کے مطابق، بحرین سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال تین ماہ تک رہی تو بحرین کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے گا۔ اسی طرح کویت اور عراق بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ عراق کی برآمدات لاکھوں بیرل یومیہ سے کم ہو کر صرف ۹۰۰,۰۰...

پاکستان کی افغان پالیسی: حکمت عملی کی ناکامی یا مجبوریوں کا نتیجہ؟

تصویر
پاکستان کی افغان پالیسی کو آج ایک ایسے سنگین موڑ پر دیکھا جا رہا ہے جہاں چالیس برس کی حکمت عملی بظاہر اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ فروری ۲۰۲۶ میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان براہ راست فوجی تصادم نے اُس کشیدگی کو عیاں کر دیا ہے جو گزشتہ چار سال سے مسلسل بڑھ رہی تھی۔ پاکستان کی افغان پالیسی کیوں ناکام ہوئی؟ افغانستان سے متعلق پاکستان کی حکمت عملی کا مرکزی خیال یہ تھا کہ کابل میں ایک مستحکم حکومت پورے خطے میں امن کا ضامن ہوگی۔ اس مفروضے پر پاکستان نے بھاری سیاسی اور سلامتی قیمت چکائی ہے۔ مگر ۲۰۲۱ میں طالبان کی واپسی کے بعد صورتحال بالکل برعکس نکلی۔ توقع کے برعکس، پاکستان کو اپنے مغربی ہمسائے سے دہشت گردی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر کھلے عام پناہ گاہیں میسر ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق، جون ۲۰۲۵ سے اب تک چار ہزار سے زائد تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد منظم طریقے سے خیبرپختونخوا میں دراندازی کر چکے ہیں۔ یہ تعداد کسی معمولی سرحدی دراندازی کی نہیں، بلکہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کی عکاس ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں پناہ گا...

انگلش چینل کی تاریک لہریں: کیا برطانیہ اور فرانس کا ۶۶ کروڑ پاؤنڈ کا معاہدہ تارکین وطن کے بحران کو روک سکے گا؟

تصویر
لندن اور پیرس کے درمیان طے پانے والا نیا تین سالہ معاہدہ جس کے تحت برطانیہ فرانس کو ۶۶ کروڑ پاؤنڈ ادا کرے گا، درحقیقت انسانی سانحہ اور سیاسی مجبوریوں کے درمیان ایک مشکل توازن ہے۔ انگلش چینل کی ٹھنڈی لہروں نے گزشتہ سال صرف ۲۹ انسانی جانوں کو نگل لیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وسیع مالی امداد واقعی اس المیے کا حل فراہم کر سکتی ہے؟ برطانیہ اور فرانس کے درمیان تارکین وطن کا معاہدہ کیا ہے؟ یہ معاہدہ دراصل سینڈہرسٹ معاہدے کی تجدید ہے جو ۲۰۱۸ میں طے پایا تھا اور ۲۰۲۳ میں اس میں توسیع کی گئی تھی ۔ اس بار کی خاص بات یہ ہے کہ برطانیہ نے پہلی بار شرط رکھی ہے کہ رقم کا ایک حصہ صرف اس صورت میں دیا جائے گا جب نتائج برآمد ہوں گے۔ مجموعی طور پر ۶۶ کروڑ پاؤنڈ میں سے ۵۸ کروڑ یورو (۵۰۱ ملین پاؤنڈ) بنیادی امداد ہے جبکہ ۱۸ کروڑ ۶۰ لاکھ یورو (۱۶۰ ملین پاؤنڈ) مشروط ہیں ۔ انگلش چینل میں تارکین وطن کی کشتیاں کیوں روکی جا رہی ہیں؟ اسی تناظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گزشتہ برسوں میں انگلش چینل کے راستے آنے والوں کی تعداد میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۲۵ میں ۴۱,۴۷۲ افراد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچے، ج...

پاکستان نیوی کا تاریخی کامیابی: تیمور میزائل نے سمندری حدود کو مزید مضبوط کر دیا

تصویر
پاکستان نیوی نے ۲۱ اپریل ۲۰۲۶ء کو ایک بار پھر قوم کو دفاعی شعبے میں خوشخبری سناتے ہوئے مقامی طور پر تیار کردہ "تیمور" فضائی سے بحری کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ تجربہ محض ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں اور خود انحصاری کی جانب ایک واضح ثبوت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس میزائل نے اپنے ہدف کو غیر معمولی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا، جس سے پاکستان نیوی کی دور دراز کے بحری خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو ثابت کیا گیا . پاکستان نیوی کا تیمور کروز میزائل کیا ہے؟ تیمور ایک فضائی سے بحری (ایئر لانچڈ) کروز میزائل ہے، جسے پاکستان نے مکمل طور پر مقامی وسائل سے تیار کیا ہے۔ یہ میزائل خاص طور پر دشمن کے بحری جہازوں کو دور دراز کے فاصلے سے نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان نیوی نے اسی نام سے بحری بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا لیکن موجودہ تجربہ ایک فضائی پلیٹ فارم سے کیا گیا، جو پاک فضائیہ کے تعاون سے ممکن ہوا . اس میزائل کو گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (جی آئی ڈی ایس) نے تیار کیا ہے، جو پاکستان کی دفاعی صنعت ...

شمیم مافی کی گرفتاری: ایران کے اسلحے کا نیٹ ورک کیسے بے نقاب ہوا؟

تصویر
شمیم مافی کی گرفتاری نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک ایسی خاتون جو امریکی مستقل رہائشی تھی اور لاس اینجلس کے علاقے ووڈ لینڈ ہلز میں آرام سے زندگی گزار رہی تھی، وہ دراصل ایران اور سوڈان کے درمیان اسلحے کی ترسیل کا ایک خفیہ نیٹ ورک چلا رہی تھی۔ ۴۴ سالہ شمیم مافی کو لاس اینجلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ استنبول جانے والی پرواز میں سوار ہونے والی تھیں ۔ وفاقی پراسیکیوٹرز کے مطابق ان پر ایران کی جانب سے سوڈان کو ہتھیار فراہم کرنے میں درمیانی کا کردار ادا کرنے کا الزام ہے ۔ ایران اور سوڈان کے درمیان اسلحے کی ترسیل کیسے ہوتی تھی؟ عدالتی دستاویزات کے مطابق شمیم مافی نے اپنی کمپنی "اٹلس انٹرنیشنل بزنس" کے ذریعے یہ تمام تر معاملات طے کیے۔ یہ کمپنی عمان میں رجسٹرڈ تھی اور اسی کے ذریعے ایران سے ہتھیار خرید کر سوڈان کی وزارت دفاع کو فراہم کیے جاتے تھے ۔ تفتیش کاروں کے مطابق ان ڈیلز میں شامل اہم ہتھیار یہ تھے: مہاجر-6 مسلح ڈرونز – یہ ایرانی ساختہ جنگی ڈرون ہیں جو جاسوسی اور حملے دونوں کی صلاحیت رکھتے ہیں ۵۵,۰۰۰ بم فیوز – جو فضائی حملوں کے لیے استعمال ہوتے...

ایران کا امریکہ سے مذاکرات سے انکار، پاکستان کی سفارتی کوششوں پر سوالیہ نشان

تصویر
تہران نے پیر ۲۰ اپریل ۲۰۲۶ کو باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں مجوزہ امریکہ مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور سفارتی عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی مطالبات “غیر حقیقی” ہیں اور ان کی تجاویز میں کوئی سنجیدگی نہیں پائی جاتی۔ اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو مسترد کریں گے جو ایران پر “غیر قانونی جنگ” مسلط کرے ۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوئی تھیں؟ پاکستان نے گزشتہ دو ماہ کے دوران خود کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک موثر ثالث کے طور پر پیش کیا تھا۔ ۱۱-۱۲ اپریل کو اسلام آباد میں ۲۱ گھنٹے طویل مذاکرات کا انعقاد کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں دو ہفتے کی جنگ بندی عمل میں آئی تھی ۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے فعال کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو بات چیت کی میز پر لایا تھا۔ تاہم، اس پیش رفت کے باوجود بنیادی اختلافات جیسے کہ جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی حیثیت حل نہ ہو ...

بریکنگ: مری میں بنے گا پنجاب کا پہلا شیشے کا پل، مریم نواز کا بڑا فیصلہ

تصویر
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مری میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے مری میں پنجاب کا پہلا اسکائی گلاس برج کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منصوبہ کوٹلی ستیاں میں تعمیر کیا جائے گا اور اس کا مقصد نہ صرف مقامی سیاحت کو ایک نیا رخ دینا ہے بلکہ اس خطے کو بین الاقوامی سیاحتی مقامات کی صف میں شامل کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی موجودگی میں کیا گیا، جس سے اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ مری میں شیشے کا پل کیوں بنایا جا رہا ہے؟ مری میں شیشے کا پل بنانے کا بنیادی مقصد سیاحت کو فروغ دینا اور اس خطے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ عالمی سطح پر شیشے کے پل سیاحوں کے لیے بڑی کشش کا باعث بنتے ہیں۔ کوٹلی ستیاں میں یہ پل نہ صرف خوبصورت مناظر پیش کرے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی تقویت دے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پنجاب کے سیاحتی نقشے کو بدل کر رکھ دے گا اور نوجوانوں کو تفریح کے جدید مواقع فراہم کرے گا۔ Maryam Nawaz Approves Punjab’s First Sky Glass Bridge and Glass Train for Murree #ARYNews ...

پاکستان کی دوہری ذمہ داریاں: کیا امریکہ-ایران ثالثی اور سعودی عرب کے دفاعی وعدوں میں توازن ممکن ہے؟

تصویر
اسلام آباد آج کل عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک طرف پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی اہم ذمہ داری نبھا رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ کے تحت ریاض کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے۔ یہ دوہری صورت حال پاکستان کے لیے انتہائی نازک چیلنج پیدا کر گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بیک وقت ان دونوں کرداروں کو نبھا سکتا ہے؟ کیا پاکستان بیک وقت امریکہ اور ایران کا ثالث بن سکتا ہے؟ پاکستان نے خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ۱۰ اپریل ۲۰۲۶ کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی . تاہم یہ کامیابی عارضی ثابت ہوئی اور بعد ازاں مذاکرات ناکام ہو گئے . ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ ثالثی دراصل مجبوری ہے، خواہش نہیں۔ پاکستان ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے اور اس خطے میں کوئی بھی بڑی جنگ پاکستان کو براہ راست متاثر کرے گی ۔ اسی لیے پاکستان اپنی بقا کے لیے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور تھا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے...

امریکہ ایران مذاکرات: پاکستان کی سفارتی فتح یا خطرے کی گھنٹی؟

تصویر
  امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف ان مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا بلکہ آرمی چیف اور وزیراعظم کی قیادت کو بھی سراہا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ پاکستان کے لیے سفارتی کامیابی ہے یا اس کے نئے چیلنجز کھڑے ہو گئے ہیں؟  امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی پاکستان نے کیوں کی؟ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، پاکستان نے اپنی سفارتی طاقت کا لوہا منوانے کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی۔ یہ موقع پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم تھا کہ وہ دنیا کو ثابت کر سکے کہ وہ امن کے لیے پرعزم ہے۔  ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے بات چیت کے لیے پاکستان کا انتخاب کیوں کیا؟ ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کا انتخاب کوئی حادثہ نہیں تھا۔ پاکستان کے پاس امریکہ اور ایران دونوں ممالک کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے۔ ٹرمپ نے خود اپنے بیان میں پاکستان کی قیادت کو "غیر معمولی" قرار دیا اور کہا کہ ان کی کوششوں سے ممکنہ بڑی جنگ ٹل گئی ۔ یہ پا...

پاکستان کی تاریخی سفارتی کامیابی: امریکہ اور ایران اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادہ

تصویر
پاکستان نے اپنی ۷۸ سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے جس نے پوری دنیا کی توجہ اسلام آباد کی طرف مبذول کر دی ہے۔ پاکستان کی امریکہ ایران مذاکرات میں ثالثی نے ایک ایسے بحران کو ٹھنڈا کیا جو پورے مشرق وسطیٰ کو ایک تباہ کن جنگ میں دھکیل سکتا تھا۔ دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ چکے ہیں۔ یہ کامیابی کوئی اتفاق نہیں بلکہ برسوں کی محتاط سفارت کاری اور متوازن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کروائی بلکہ آبراہ ہرمز کو دوبارہ بحال کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً ۲۰ فیصد سپلائی گزرتی ہے ۔ پاکستان نے امریکہ ایران مذاکرات کی میزبانی کیسے ممکن بنائی؟ منفرد سفارتی پوزیشن پاکستان کی اس کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کی منفرد سفارتی پوزیشن ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جو بیک وقت امریکہ، ایران، سعودی عرب اور چین کا قابل اعتماد پارٹنر ہے۔ سابق سفیر مسعود خان کے مطابق: "میں سفارت کاری کی تاریخ میں کسی ایک ملک کو اتنی بڑی ذمہ داری سونپے جانے کی مثال یاد نہیں کر سکتا" ۔ پاکستان...

ایران کے دس نکاتی امن منصوبے میں کیا ہے؟ جنگ بندی کے پانچ بڑے امتحان

تصویر
ستمبر ۲۰۲۶ میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان پندرہ روزہ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو پوری دنیا نے راحت کی سانس لی۔ ۱۱ اپریل ۲۰۲۶ کو اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات شروع ہو رہے ہیں، اور پاکستان نے ثالثی کی ذمہ داری نبھائی ہے ۔ لیکن کیا یہ جنگ بندی مستقل امن میں بدل سکتی ہے؟ یا پھر ہمیں وہی صورتحال دیکھنے کو ملے گی جو ماضی میں کئی بار ہوئی؟ آئیے ان پانچ بڑے چیلنجز کا جائزہ لیتے ہیں جو اسلام آباد مذاکرات کی راہ میں حائل ہیں۔ کیا پاکستان واقعی کامیاب ثالث ہو سکتا ہے؟ پاکستان نے اس سے پہلے بھی مشرق وسطیٰ میں ثالثی کے جوہر دکھائے ہیں، لیکن ایران اور امریکہ جیسے حریفوں کے درمیان ثالثی کوئی آسان کام نہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلے ہی اردو میں ایک بیان جاری کر کے پاکستانی عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے، جس سے تہران کے مثبت رویے کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اسی تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا پل بن سکے گا؟ امریکہ کی طرف سے نائب صدر جے ڈی وانس مذاکرات کی قیادت کریں گے، جبکہ ایران نے ابھی تک اپنے وفد کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی ہے ۔ پاکستان ...