پاکستان کی دوہری ذمہ داریاں: کیا امریکہ-ایران ثالثی اور سعودی عرب کے دفاعی وعدوں میں توازن ممکن ہے؟
اسلام آباد آج کل عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک طرف پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی اہم ذمہ داری نبھا رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ کے تحت ریاض کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے۔ یہ دوہری صورت حال پاکستان کے لیے انتہائی نازک چیلنج پیدا کر گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بیک وقت ان دونوں کرداروں کو نبھا سکتا ہے؟
کیا پاکستان بیک وقت امریکہ اور ایران کا ثالث بن سکتا ہے؟
پاکستان نے خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ۱۰ اپریل ۲۰۲۶ کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی . تاہم یہ کامیابی عارضی ثابت ہوئی اور بعد ازاں مذاکرات ناکام ہو گئے .
ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ ثالثی دراصل مجبوری ہے، خواہش نہیں۔ پاکستان ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے اور اس خطے میں کوئی بھی بڑی جنگ پاکستان کو براہ راست متاثر کرے گی ۔ اسی لیے پاکستان اپنی بقا کے لیے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور تھا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کی شرائط کیا ہیں؟
ستمبر ۲۰۲۵ میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک سٹریٹجک دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کسی بھی بیرونی حملے کو اپنے خلاف حملہ تصور کریں گے ۔ یہ معاہدہ مشترکہ دفاع، انٹیلیجنس شیئرنگ اور فوجی تربیت پر مشتمل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ایران نے سعودی عرب کے تیل کے تنصیبات پر حملہ کیا تو پاکستان نے فوری طور پر ردعمل دیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اس حملے کو "سنگین خلاف ورزی" قرار دیا ۔
پاکستان نے سعودی عرب کو جنگی طیارے کیوں بھیجے؟
جہاں ایک طرف اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری تھے، وہیں پاکستان نے سعودی عرب کو جنگی طیارے اور فوجی دستے بھیج دیے ۔ سی این این انڈونیشیا کی رپورٹ کے مطابق یہ طیارے ۱۱ اپریل ۲۰۲۶ کو کنگ عبدالعزیز ایئربیس پر پہنچ گئے ۔
سکیورٹی تجزیہ کار امتیاز گل کے مطابق یہ طیارے فوجی کارروائی کے لیے نہیں بلکہ ایران کو پیغام دینے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ "تین طیارے فوجی طور پر کوئی فرق نہیں ڈالیں گے، لیکن یہ ایران کو پیغام ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدے ہیں" ۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟
مذاکرات کی ناکامی پاکستان کے لیے خطرناک صورت حال پیدا کر سکتی ہے۔ نیوز ۱۸ کی رپورٹ کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو امریکہ پاکستان سے بلوچستان میں ائیربیس مانگ سکتا ہے ۔
ایران نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کو نشانہ بنائے گا جو امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
اس کے علاوہ پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سرحدی تجارت مکمل طور پر بند ہو جائے گی اور لاکھوں مہاجرین پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں، جو پہلے سے کمزور معیشت پر بوجھ ڈالیں گے ۔
کیا پاکستان ایران کے ساتھ کشیدگی مول لے سکتا ہے؟
پاکستان کی فوجی قیادت ایک انتہائی نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک طرف پاکستان کو امریکہ کی مالی امداد اور سکیورٹی تعاون کی ضرورت ہے تو دوسری طرف ایران ایک اہم پڑوسی ہے جس کے ساتھ کشیدگی پاکستان کو دہائیوں پیچھے دھکیل سکتی ہے ۔
دی فرائیڈے ٹائمز کے تجزیے کے مطابق پاکستان نے درحقیقت پہلے ہی اپنا انتخاب کر لیا ہے۔ جب آپ ثالث ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک فریق کے ساتھ فوجی تعاون کرتے ہیں تو آپ کی ثالثی غیر موثر ہو جاتی ہے ۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانی ہوگی۔ ڈان اخبار کے مطابق پاکستان کی قدر اس کی "کنیکٹیویٹی" میں ہے - یہ واحد ملک ہے جس کے امریکہ، ایران، چین اور خلیجی ممالک سے تعلقات ہیں ۔
تھے ڈپلومیٹ کے تجزیے کے مطابق پاکستان کی ثالثی دراصل خود کو بچانے کی کوشش ہے، طاقت کا مظاہرہ نہیں ۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی معیشت کو مضبوط کرے تاکہ وہ بیرونی امداد پر انحصار کم کر سکے۔
پاکستان اس وقت ایک انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور دوسری طرف ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد۔ اگر پاکستان نے ہوشیاری سے کام نہ لیا تو وہ ایک بڑی علاقائی جنگ میں گھس سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں شفافیت لائے اور دونوں فریقوں کو یقین دلائے کہ وہ کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ ورنہ یہ دوہری ذمہ داریاں پاکستان کے لیے قومی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔
FAQs
سوال: کیا پاکستان بیک وقت امریکہ اور ایران کا ثالث بن سکتا ہے؟
جی ہاں، پاکستان کے دونوں ممالک سے تعلقات ہیں لیکن سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اس ثالثی کو مشکل بنا دیتا ہے۔ ایران پہلے ہی پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ تعیناتیوں کو تشویش سے دیکھ رہا ہے ۔
سوال: پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کی شرائط کیا ہیں؟
یہ معاہدہ ستمبر ۲۰۲۵ میں ہوا جس کے تحت دونوں ممالک کسی بھی بیرونی حملے کو اپنے خلاف حملہ تصور کریں گے۔ اس میں مشترکہ دفاع، انٹیلیجنس شیئرنگ اور فوجی تربیت شامل ہے ۔
سوال: پاکستان نے سعودی عرب کو جنگی طیارے کیوں بھیجے؟
پاکستان نے ایران کو پیغام دینے کے لیے یہ طیارے بھیجے کہ اس کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدے ہیں۔ یہ فوجی کارروائی کے لیے نہیں بلکہ سفارتی پیغام تھا ۔
سوال: ایران اور امریکہ کے مذاکرات کی ناکامی کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟
مذاکرات کی ناکامی سے پاکستان کو امریکی ائیربیس کی درخواست، ایرانی حملوں کا خطرہ، سرحدی کشیدگی، معاشی بحران اور لاکھوں مہاجرین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know