آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پیغام میں برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کو ان کی ایران جنگ میں عدم دلچسپی پر بری طرح آڑے ہاتھوں لیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ جو ممالک آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا رہے، ان کے پاس دو راستے ہیں: یا تو امریکہ سے تیل خریدیں، یا پھر ’کچھ ہمت دکھائیں، آبنائے ہرمز میں جائیں اور خود لے لیں‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اب ان ممالک کی مدد کے لیے موجود نہیں رہے گا، جیسا کہ یہ ممالک ایران جنگ میں امریکہ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔ ٹرمپ کے الفاظ تھے: ’آپ کو خود لڑنا سیکھنا ہو گا، امریکہ اب آپ کی مدد کے لیے نہیں ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے آپ ہمارے لیے نہیں تھے۔ ایران کا خاتمہ ہو چکا ہے، مشکل کام ہو گیا ہے، جاؤ اپنا تیل خود لو‘۔

برطانیہ اور فرانس نے امریکہ کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟

ٹرمپ کی یہ برہمی دراصل ان کی اس مایوسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے روایتی یورپی اتحادی اس بار ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی کارروائی میں شامل نہیں ہوئے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا تھا کہ برطانیہ اس جنگ میں براہ راست شمولیت اختیار نہیں کرے گا۔

فرانس کے معاملے میں صورتحال کچھ زیادہ ہی پیچیدہ ہے۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ فرانس نے اسرائیل جا رہے امریکی فوجی طیاروں کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ۔ فرانسیسی حکومت نے اس الزام پر حیرت کا اظہار کیا تاہم واضح تردید بھی نہیں کی۔ فرانس کا کہنا ہے کہ اس نے صرف ان طیاروں کو اجازت دی جو حملوں میں ملوث نہیں تھے۔

اسپین نے تو کھلے عام امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں جبکہ اٹلی نے بھی سسلی میں موجود امریکی اڈوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ۔ یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ نے ان سے مشورہ کیے بغیر یہ جنگ شروع کی، اس لیے اس کے نتائج بھگتنے کی ذمہ داری ان پر نہیں ڈالی جا سکتی۔


آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیوں متاثر ہے؟

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ ہے جس سے دنیا کی تقریباً ۲۰ فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے ۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث ایران نے اس اہم راستے کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔

امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ کر ۴ ڈالر فی گیلن تک جا پہنچی ہیں جبکہ یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک کو ایندھن کی قلت کا سامنا ہے ۔ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کو ’تباہ‘ کر دیا ہے اور اب مشکل کام ہو چکا ہے، اس لیے یہ راستہ کھولنے کی ذمہ داری اب ان ممالک کی ہے جو اس کے استعمال سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔


ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں پر کیا اثر ہوگا؟

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایک سنگین صورت حال کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں براہ راست فوجی کارروائی کی دعوت دینے کے مترادف یہ بیان خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

تاہم وال اسٹریٹ پر سرمایہ کاروں نے ٹرمپ کے اس اشارے کو جنگ کے خاتمے کی ممکنہ علامت قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ ڈاؤ جونز انڈیکس میں ۲.۵ فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ امریکی محکمہ دفاع کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آنے والے دن ایران جنگ میں ’فیصلہ کن‘ ثابت ہوں گے اور اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا تو جنگ مزید شدید ہو جائے گی۔


کیا ٹرمپ کا یہ بیان نیٹو اتحاد کے لیے خطرہ ہے؟

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل وہ ڈنمارک سے گرین لینڈ لینے کی دھمکی دے چکے ہیں اور یوکرین کے لیے امریکی فوجی امداد کم کر چکے ہیں ۔ ان کے اس تازہ بیان نے یورپ میں نیٹو کے مستقبل کے بارے میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

ٹرمپ کے ساتھ ان کے وزرا بھی صف آرا ہیں۔ سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے اسپین کے خلاف سخت زبان استعمال کی جبکہ ہیگستھ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت صرف امریکی بحریہ کی ذمہ داری نہیں ہے، ’آخری بار جب میں نے چیک کیا تھا تو ایک بڑی اور طاقتور رائل نیوی بھی موجود تھی‘ ۔

یورپی رہنماؤں نے اس صورت حال کو ڈی اسکیلیٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے کہا کہ امریکہ برطانیہ کا ’منفرد قریبی اتحادی‘ ہے، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دفتر نے کہا کہ فرانس کا موقف پہلے دن سے تبدیل نہیں ہوا۔


آبنائے ہرمز کی بندش سے کون سے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں؟

آبنائے ہرمز کی بندش کا سب سے زیادہ نقصان ان ممالک کو ہو رہا ہے جو خلیجی ممالک سے تیل درآمد کرتے ہیں۔ ان میں بھارت، چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ایشیائی ممالک شامل ہیں ۔ بھارت سمیت کئی ممالک متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یورپی ممالک بھی اس بحران سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ان کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تاہم ان ممالک کا موقف ہے کہ وہ اس جنگ میں براہ راست شامل ہونے کے بجائے سفارتی راستے سے بحران کا حل نکالنے میں مدد کریں گے۔


ایران جنگ میں اب تک کتنے افراد ہلاک ہوئے؟

امریکی-اسرائیلی حملوں میں اب تک ۱۳۴۰ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔ ایران کی طرف سے جوابی کارروائی میں بھی متعدد جانی نقصان ہوا ہے۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں میں ۱۲۰۰ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ فلسطین میں بھی جانی نقصان جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یہ جنگ مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں سب سے تباہ کن تصادم میں سے ایک بن چکی ہے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے جبکہ اسرائیل نے ایران کے فوجی اداروں پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: ٹرمپ نے ان ممالک کو جو ایران جنگ میں شامل نہیں ہوئے، مشورہ دیا کہ وہ یا تو امریکہ سے تیل خریدیں یا پھر ہمت دکھا کر آبنائے ہرمز میں جا کر خود تیل لے لیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اب ان کی مدد نہیں کرے گا۔

سوال: فرانس نے امریکی طیاروں کے لیے فضائی حدود کیوں بند کیں؟

جواب: فرانس کا کہنا ہے کہ اس نے صرف ان طیاروں کو اجازت دی جو حملوں میں ملوث نہیں تھے۔ تاہم ٹرمپ کا الزام ہے کہ فرانس نے اسرائیل جا رہے فوجی طیاروں کو اپنی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔

سوال: آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی پر کیا اثر پڑے گا؟

جواب: آبنائے ہرمز سے دنیا کی ۲۰ فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کی بندش سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

سوال: کیا یورپی ممالک آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کوئی اقدام کر رہے ہیں؟

جواب: برطانیہ اور فرانس ۳۵ ممالک پر مشتمل اتحاد تشکیل دے رہے ہیں جو جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری گشت کرے گا اور تیل کی ترسیل کو محفوظ بنائے گا۔

سوال: ایران جنگ میں اب تک کتنے افراد مارے جا چکے ہیں؟

جواب: امریکی-اسرائیلی حملوں میں اب تک ۱۳۴۰ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لبنان میں مزید ۱۲۰۰ سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟