آبنائے ہرمز کی بندش: خلیجی ممالک کی معیشتیں تباہی کے دہانے پر


مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کی سب سے اہم شاہراہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ یہ بندش خلیجی ممالک کے لیے ایک زبردست معاشی دھچکا ہے۔ درحقیقت، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازعے کی وجہ سے خطے میں تیل اور گیس کی پیداوار میں تیزی سے کمی آئی ہے ۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے نہ صرف تیل کی سپلائی روکی ہے بلکہ خلیجی ممالک کے خزانوں کو بھی خشک کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس صورتحال کو ایک "بنیادی جیو پولیٹیکل جھٹکا" قرار دے رہے ہیں جس کے عالمی سطح پر شدید اثرات مرتب ہوں گے ۔


کون سے خلیجی ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں؟

اس بحران میں سب سے زیادہ کمزور وہ ممالک ہیں جن کے پاس تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے نہیں ہیں۔ ماریکس فرم کی رپورٹ کے مطابق، بحرین سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال تین ماہ تک رہی تو بحرین کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے گا۔ اسی طرح کویت اور عراق بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ عراق کی برآمدات لاکھوں بیرل یومیہ سے کم ہو کر صرف ۹۰۰,۰۰۰ بیرل یومیہ پر رہ گئی ہیں ۔ قطر کا معاشی خسارہ بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔


سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بحران سے کیسے نمٹا؟

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) دوسری خلیجی ریاستوں کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہیں کیونکہ ان کے پاس متبادل راستے موجود ہیں۔ سعودی عرب اپنی مشرقی-مغربی پائپ لائن کے ذریعے روزانہ ۲۰ لاکھ بیرل تیل بحیرہ احمر کے راستے برآمد کر سکتا ہے ۔ اسی طرح یو اے ای اپنی "ابوظہبی کروڈ آئل پائپ لائن" کے ذریعے فجیرہ کی بندرگاہ سے تیل برآمد کر رہا ہے۔ تاہم، اس کے باوجود سعودی عرب کی معاشی ترقی کی شرح پہلی سہ ماہی میں ۳.۷ فیصد سے کم ہو کر ۲.۸ فیصد رہ گئی ہے ۔


آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتیں کس حد تک بڑھ گئی ہیں؟

آبنائے ہرمز کی بندش کا سب سے براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے برینٹ کروڈ تیل ۷۲.۶ ڈالر فی بیرل تھا، جو بڑھ کر ۱۱۷ ڈالر فی بیرل ہو گیا ۔ ایک موقع پر تو یہ قیمت ۱۲۶ ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی تھی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران جاری رہا تو تیل کی قیمت ۱۹۰ ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے جو ۱۹۷۰ کی دہائی کے تیل کے بحران سے بھی زیادہ سنگین صورت حال ہوگی ۔

اس بحران کے بعد خلیجی ممالک کی ترقی کی شرح کیا رہے گی؟

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خلیجی ممالک کی ترقی کی شرح میں زبردست کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ توقع ہے کہ ۲۰۲۶ میں کویت، بحرین، قطر، عراق اور ایران کی معیشتیں سکڑ جائیں گی ۔ سعودی عرب کے لیے ترقی کی شرح کم کر کے ۳.۱ فیصد کر دی گئی ہے جو پہلے ۴.۵ فیصد تھی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممالک اس بحران سے جلدی باہر نکل پائیں گے؟ ماہرین کے مطابق، بحران ختم ہونے کے بعد بھی معیشتوں کو سنبھلنے میں کافی وقت لگے گا۔


آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی خوراک کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

اس بحران کا اثر صرف تیل تک محدود نہیں ہے بلکہ خوراک کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ خلیج کھادوں (یوریا اور امونیا) کا ایک بڑا مرکز ہے ۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے کھادوں کی قیمتوں میں ۴۷ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں دنیا بھر میں خوراک مہنگی ہو جائے گی، خاص طور پر وہ ممالک جو خوراک درآمد کرتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے خلیجی ممالک کی معیشتوں کو جس طرح نقصان پہنچایا ہے، اس کی تلافی ممکن نہیں۔ یہ بحران صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہ گیا بلکہ اب یہ عالمی شرح نمو، افراط زر اور توانائی کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو دنیا کو ایک ایسے معاشی طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی نظیر ماضی قریب میں نہیں ملتی۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: آبنائے ہرمز کی بندش سے کون سا خلیجی ملک سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے؟

جواب: ماہرین کے مطابق بحرین اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ بحرین کے پاس تیل برآمد کرنے کا کوئی متبادل زمینی راستہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس کا معاشی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ جائے گا ۔

سوال: کیا سعودی عرب آبنائے ہرمز کے بغیر تیل برآمد کر سکتا ہے؟

جواب: جی ہاں، سعودی عرب اپنے ملک میں موجود مشرقی-مغربی پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً ۲۰ لاکھ بیرل تیل برآمد کر سکتا ہے، جو اس کی کل برآمدات کا ۳۵ فیصد بنتا ہے ۔

سوال: کیا آبنائے ہرمز کی بندش سے خوراک مہنگی ہو گی؟

جواب: جی ہاں، اس علاقے سے کھادوں کی ترسیل بند ہونے کی وجہ سے یوریا اور امونیا کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے وقتوں میں فصلوں کی پیداوار متاثر ہوگی اور خوراک مہنگی ہو جائے گی ۔

سوال: کیا عراق اس بحران سے بچنے میں کامیاب رہا؟

جواب: نہیں، عراق اس بحران سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ عراق کی تیل کی برآمدات ۴۰ لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر ۹ لاکھ بیرل یومیہ پر آ گئی ہیں، جس سے وہاں معاشی بحران گہرا ہو گیا ہے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟