پاکستان کی افغان پالیسی: حکمت عملی کی ناکامی یا مجبوریوں کا نتیجہ؟
پاکستان کی افغان پالیسی کو آج ایک ایسے سنگین موڑ پر دیکھا جا رہا ہے جہاں چالیس برس کی حکمت عملی بظاہر اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ فروری ۲۰۲۶ میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان براہ راست فوجی تصادم نے اُس کشیدگی کو عیاں کر دیا ہے جو گزشتہ چار سال سے مسلسل بڑھ رہی تھی۔
پاکستان کی افغان پالیسی کیوں ناکام ہوئی؟
افغانستان سے متعلق پاکستان کی حکمت عملی کا مرکزی خیال یہ تھا کہ کابل میں ایک مستحکم حکومت پورے خطے میں امن کا ضامن ہوگی۔ اس مفروضے پر پاکستان نے بھاری سیاسی اور سلامتی قیمت چکائی ہے۔ مگر ۲۰۲۱ میں طالبان کی واپسی کے بعد صورتحال بالکل برعکس نکلی۔ توقع کے برعکس، پاکستان کو اپنے مغربی ہمسائے سے دہشت گردی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔
حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر کھلے عام پناہ گاہیں میسر ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق، جون ۲۰۲۵ سے اب تک چار ہزار سے زائد تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد منظم طریقے سے خیبرپختونخوا میں دراندازی کر چکے ہیں۔ یہ تعداد کسی معمولی سرحدی دراندازی کی نہیں، بلکہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کی عکاس ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں پناہ گاہیں کس نے فراہم کیں؟
یہ سوال آج ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی مہدوس کھلے عام کابل میں مقیم ہیں اور وہاں سے منظم طور پر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق انہیں ماہانہ تینتالیس ہزار ڈالر کی مالی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
افغان طالبان کی طرف سے یہ کہنا کہ تحریک طالبان پاکستان پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، محض حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ جب پاکستان کے اندر دہشت گردی کی وارداتوں میں افغان شہری مارے جاتے ہیں تو یہ دعویٰ خود بخود بے معنی ہو جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور داعش خراسان کے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔
پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات میں دراڑ کیوں آئی؟
تعلقات میں خرابی کی ابتدا اس وقت ہوئی جب طالبان نے پاکستان کی جانب سے بار بار دی جانے والی انتباہی کو نظر انداز کیا۔ قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے استنبول مذاکرات ناکام ہو گئے کیونکہ طالبان نے کسی بھی تحریری معاہدے سے انکار کر دیا۔ سعودی عرب کی ثالثی میں ہونے والی کوششیں بھی ناکام رہیں۔
پاکستان کا موقف واضح تھا: دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کیے جائیں۔ لیکن طالبان نے صرف زبانی یقین دہانیوں پر اکتفا کیا۔ ۲۰۲۵ میں پاکستان کے اندر سلامتی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا تو صبر کی بند ٹوٹ گئی۔
🚨Mullah Abdul Ghani Baradar:“International sanctions cannot prevent investment in Afghanistan, nor can they weaken the economy. Countries around the world should adopt economic & political policies instead of sanctions.” pic.twitter.com/OudMXG7hTE— Afghanistan Defense (@AFGDefense) April 27, 2026
ڈیورنڈ لائن تنازعہ کیا ہے اور اس کی تاریخی حیثیت کیا ہے؟
پاکستان افغانستان کشیدگی کی جڑیں ڈیورنڈ لائن میں بھی پیوست ہیں۔ ۱۸۹۳ میں کھینچی گئی یہ چھبیس سو چالیس کلومیٹر طویل سرحد پاکستان کے لیے بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہے، لیکن افغانستان نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان کی طرف سے سرحدی باڑ لگانے کے اقدام نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا۔
افغانستان کا یہ مؤقف کہ ڈیورنڈ لائن قبائلی علاقوں کو تقسیم کرتی ہے، ایک پرانا تنازعہ ہے جو آج بھی تازہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کے دور میں بھی سرحد پار کشیدگی کم نہیں ہوئی۔
پاکستان کی سلامتی پالیسی میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
پاکستان نے اب اپنی پالیسی میں واضح تبدیلی کر دی ہے۔ برسوں کی "حکمت عملی پر مبنی صبر" کی جگہ اب "براہ راست احتساب" نے لے لی ہے۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کے الفاظ میں: "ہمارے صبر کا پیالہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب ہمارے درمیان کھلی جنگ ہے"۔
نئی پالیسی کے تحت، اگر خیبرپختونخوا یا بلوچستان میں کوئی بھی دہشت گرد حملہ افغان سرزمین سے منسلک پایا گیا تو جوابی کارروائی براہ راست افغان طالبان کے ٹھکانوں پر کی جائے گی۔ پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان اور طالبان کے درمیان امتیاز ختم کر دیا ہے۔
طالبان کے خلاف پاکستان کے فوجی آپریشن کے کیا نتائج ہوں گے؟
اکتوبر ۲۰۲۵ اور فروری ۲۰۲۶ میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں نے طالبان کو براہ راست طریقے سے للکارا ہے۔ ان حملوں میں افغان سرزمین پر موجود تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ فوجی کارروائیاں قلیل مدتی میں دہشت گردوں کو دباؤ میں تو لا سکتی ہیں، لیکن طویل مدتی امن کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مارچ ۲۰۲۶ میں چین کی ثالثی میں بات چیت ہوئی، جو امید کی ایک کرن ہے۔
بھارت افغانستان میں پاکستان کے خلاف کیا کردار ادا کر رہا ہے؟
پاکستان کا الزام ہے کہ بھارت افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے نئی دہلی کے دورے اور بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں نے پاکستان کے شبہات کو مزید تقویت دی ہے۔
پاکستانی دفاعی حکام کے مطابق، بھارت کے قومی سلامتی مشیر کی حکمت عملی یہ تھی کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے۔ اگرچہ بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے، لیکن پاکستان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں افغان شہریوں کا کردار کیا ہے؟
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کے اندر ہونے والے خودکش حملوں میں افغان شہریوں کی تعداد قابلِ غور ہے۔ باجوڑ میں مارے جانے والے افغان دہشت گرد ملا تاج الدین اور بنوں میں ہلاک ہونے والے چھ غیر ملکی دہشت گرد اس حقیقت کے غماز ہیں۔
یہ افغان شہری نہ صرف جنگجو کے طور پر کام کر رہے ہیں بلکہ رہنمائی، تربیت اور منصوبہ بندی میں بھی ملوث ہیں۔
کیا پاکستان کی افغان پالیسی کا کوئی متبادل ہے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو وہ سفارتی اور فوجی دباؤ جاری رکھے، یا پھر اپنی پالیسی کا مکمل از سرِ نو جائزہ لے۔ پہلا راستہ قلیل المدتی کامیابی تو دے سکتا ہے لیکن دوسرا راستہ طویل مدتی امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طالبان پر صرف فوجی دباؤ ہی کافی نہیں۔ ان کی معاشی مجبوریوں، علاقائی تناظر اور اندرونی سیاست کو سمجھنا ہوگا۔ اور سب سے اہم، پاکستان کو اپنی اندرونی سلامتی پالیسی پر بھی غور کرنا ہوگا۔
تاریخی تناظر: کیا طالبان کو حمایت کرنا غلطی تھی؟
۲۰۲۰ کی دہائی کے آخر میں پہنچ کر بہت سے مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پاکستان نے طالبان کی حمایت کرکے کوئی بڑی غلطی تو نہیں کی؟ ایک زمانے میں پاکستان نے افغانستان میں "حکمت عملی پر مبنی گہرائی" کے نام پر طالبان کی حوصلہ افزائی کی۔ آج وہی طالبان پاکستان کے خلاف ہو گئے ہیں۔
۲۰۲۱ میں طالبان کی واپسی کو پاکستان میں کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، لیکن یہ جلد ہی مہنگا ثابت ہوا۔ اس غلطی کا خمیازہ پورا پاکستانی قوم بھگت رہی ہے۔
عالمی اثرات اور مستقبل
پاکستان افغانستان تصادم کے عالمی اثرات بھی فکر مند کن ہیں۔ چین، جو دونوں ممالک کا ہمسایہ ہے، مصالحت کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایران نے بھی رمضان المبارک میں جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ روس نے بھی فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور تنازعات کو سفارتی طریقے سے حل کریں۔
ٹیگز: پاکستان افغانستان تعلقات، تحریک طالبان پاکستان، افغان طالبان، دہشت گردی، سلامتی پالیسی، پاک فوج، ڈیورنڈ لائن، بھارت افغانستان تعلقات، قومی سلامتی، علاقائی سیاست
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کی اصل وجہ کیا ہے؟
موجودہ کشیدگی کی اصل وجہ افغان سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونا ہے۔ پاکستان کے مطابق افغان طالبان نے بار بار دی گئی انتباہی کے باوجود تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو ختم نہیں کیا، جس کے باعث پاکستان نے فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔
تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان میں کیا تعلق ہے؟
تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان دو الگ گروہ ہیں لیکن ان کے درمیان نظریاتی اور آپریشنل تعلقات ہیں۔ افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر پناہ گاہیں فراہم کی ہوئی ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کے رہنما کھلے عام کابل میں مقیم ہیں۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان کو دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ڈیورنڈ لائن تنازعہ کیا ہے؟
ڈیورنڈ لائن ۱۸۹۳ میں برطانوی حکومت اور افغان امیر کے درمیان طے پانے والی سرحد ہے جو پاکستان اور افغانستان کو الگ کرتی ہے۔ پاکستان اسے بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے جبکہ افغانستان نے کبھی اسے تسلیم نہیں کیا۔ یہ تنازعہ آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں رکاوٹ ہے۔
کیا پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ممکن ہیں؟
جی ہاں، مارچ ۲۰۲۶ میں چین کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔ پاکستان نے اپنی شرائط واضح کر دی ہیں: افغان سرزمین کا استعمال تحریک طالبان پاکستان کے خلاف بند کیا جائے اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔ تاہم ماضی میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔
پاکستان کی افغان پالیسی میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
پاکستان نے اپنی پالیسی میں "براہ راست احتساب" کو اپنا لیا ہے۔ اب اگر افغان سرزمین سے کوئی حملہ ہوتا ہے تو جوابی کارروائی براہ راست افغان طالبان کے ٹھکانوں پر کی جائے گی۔ پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان امتیاز ختم کر دیا ہے۔
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know