۷۰.۱ فیصد مصنوعی ذہانت اپنائیت: امارات نے عالمی ریکارڈ کیسے توڑا؟

 

جی ہاں، مائیکروسافٹ مصنوعی ذہانت معاشیات انسٹی ٹیوٹ کی جاری کردہ "عالمی مصنوعی ذہانت پھیلاؤ رپورٹ ۲۰۲۶ - پہلی سہ ماہی" کے مطابق متحدہ عرب امارات کام کرنے والی آبادی میں مصنوعی ذہانت اپنانے کی شرح ۷۰.۱ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ وہ سنگ میل ہے جسے اب تک کوئی اور معیشت حاصل نہیں کر سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بڑے حصے اب بھی ۱۰ فیصد سے بھی کم شرح پر ہیں۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ امارات نے دوسروں سے کہیں زیادہ تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنایا ہے۔


عرب دنیا میں یہ کامیابی کیوں منفرد ہے؟

جب قطر ۴۱.۸ فیصد کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے تو امارات کا ۷۰.۱ فیصد ہونا عرب دنیا کے لیے باعث فخر ہے۔ دو عرب ممالک کا پہلے دس میں ہونا خود ایک بڑی بات ہے۔ یہ کامیابی صرف تیل سے مالا مال ہونے کی نہیں بلکہ دانشمندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ امارات نے مصنوعی ذہانت کو اپنی معاشی تنوع کی حکمت عملی کا حصہ بنایا۔ اب اینویڈیا، اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں امارات کو اپنا علاقائی مرکز بنا رہی ہیں۔

کیا یہ شرح مستقبل میں مزید بڑھے گی؟

ممکن ہے۔ مائیکروسافٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امارات "طویل مدتی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ہنر مندی" پر توجہ دے رہا ہے۔ جب حکومت، کاروبار اور عوام تینوں ایک سمت میں کام کریں تو ترقی تیز ہوتی ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کو ذمہ داری سے استعمال کرنے کے چیلنجز بھی ہیں۔ اعداد و شمار کی رازداری، برقی شبکہ خطرات اور نوکریوں پر اثر جیسے مسائل پر کام جاری ہے۔ لیکن بنیادی پیغام یہ ہے کہ امارات نے جو راہ دکھائی ہے وہ قابل تعریف ہے۔


دنیا اس سے کیا سبق لے سکتی ہے؟

سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو عوام تک پہنچانے کے لیے ایک مربوط قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ امارات نے مصنوعی ذہانت کو تعلیم کے نصاب کا حصہ بنایا، سرکاری اداروں میں اسے لازمی قرار دیا، اور اس کے لیے علیحدہ وزارت قائم کی۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو دوسرے ممالک نقل کر سکتے ہیں۔ جبکہ کچھ ممالک مصنوعی ذہانت کو خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں، امارات نے اسے موقع سمجھا۔


سوالات

سوال: مائیکروسافٹ کی مصنوعی ذہانت پھیلاؤ رپورٹ کیا ہے؟

جواب: یہ ایک سہ ماہی رپورٹ ہے جو دنیا بھر میں کام کرنے والی آبادی میں تخلیقی مصنوعی ذہانت آلات کے استعمال کی شرح بتاتی ہے۔

سوال: امارات نے کتنے عرصے میں یہ کارنامہ انجام دیا؟

جواب: امارات کی شرح ۲۰۲۵ کی پہلی ششماہی میں ۵۹.۴ فیصد تھی جو ۲۰۲۶ کی پہلی سہ ماہی میں ۷۰.۱ فیصد تک پہنچ گئی۔

سوال: کیا یہ رپورٹ مستند ہے؟

جواب: جی ہاں، یہ مائیکروسافٹ مصنوعی ذہانت معاشیات انسٹی ٹیوٹ نے ۱۰۰ سے زائد مارکیٹوں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی ہے۔

سوال: مصنوعی ذہانت اپنائیت میں دنیا میں کون دوسرے نمبر پر ہے؟

جواب: سنگاپور ۶۳.۴ فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

سوال: امارات میں مصنوعی ذہانت کن شعبوں میں استعمال ہو رہا ہے؟

جواب: تعلیم، صحت، مالیات، ہوا بازی، رسد اور سرکاری خدمات سمیت تقریباً ہر شعبے میں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟