ایرانی میزائل: خلیجی ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا ایک ناکام ہتھیار
جب مارچ ۲۰۲۶ میں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا طوفان برپا کیا تو تہران کا خیال تھا کہ اس سے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں خوف و ہراس پھیل جائے گا اور وہ امریکہ سے فاصلہ بنا لیں گے۔ لیکن ایسا ہوا بالکل برعکس۔ ایرانی میزائلوں نے نہ صرف خلیجی ممالک کو متحد کیا بلکہ انہیں اسرائیل اور امریکہ کے مزید قریب کر دیا ۔
ایران نے خلیجی ممالک پر میزائل حملے کیوں کیے؟
ایران کا بنیادی مقصد خلیجی ممالک کو اسرائیل-امریکہ کے خلاف جنگ میں غیر جانبدار رکھنا تھا۔ تہران کا خیال تھا کہ اگر اس نے ان ممالک پر حملے کیے تو وہ دباؤ میں آ کر امریکی اڈوں کو بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ مزید یہ کہ ایران یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ وہ خطے میں طاقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ حکمت عملی تہران کے لیے بہت بھاری پڑ گئی۔ درحقیقت، ان حملوں نے خلیجی ممالک کو یہ باور کرا دیا کہ ایران کوئی قابل اعتماد پڑوسی نہیں بلکہ ایک وجودی خطرہ ہے۔
🇮🇷 The Gulf Cooperation Council's Secretary-General tonight condemned Iran's attacks on the UAE as "serious aggression." Specifically calling out the strike on an ADNOC tanker as piracy.
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) May 4, 2026
85% of all Iranian missiles and drones fired since February 28 have landed on GCC territory.… https://t.co/Syhfvk33xn pic.twitter.com/UB2UO7UTPH
کیا خلیجی ممالک ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہو رہے ہیں؟
جواب ہے، ابھی نہیں، لیکن حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ چیٹم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق، خلیجی ممالک نے اب تک دفاعی پالیسی اپنائی ہے اور جوابی کارروائی سے گریز کیا ہے ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس جدید ترین فضائیہ ہے جو ایران پر حملے کر سکتی ہے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں: پہلی، اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ کرنا اپنی عوام میں سیاسی طور پر مقبول نہیں؛ دوسری، امریکہ پر اعتماد کی کمی کہ وہ طویل مدتی میں ان کا ساتھ دے گا ۔ تاہم، اگر ایران نے تیل کی تنصیبات یا شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا تو خلیجی ممالک کا رویہ بدل سکتا ہے۔
ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے خلیجی ممالک نے کتنی لاگت برداشت کی؟
یہ سب سے چونکا دینے والا پہلو ہے۔ اندازوں کے مطابق، خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے تقریباً ۳۰۰۰ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فائر کیے ۔ ہر پیٹریاٹ میزائل کی قیمت ۳ سے ۶ ملین ڈالر ہے۔ اس حساب سے خلیجی ممالک نے صرف انٹرسیپٹرز پر ۵ ارب ڈالر سے زائد کی لاگت برداشت کی ہے ۔ یہ وہ رقم ہے جو وہ کبھی واپس نہیں پا سکتے۔ اس کے برعکس، ایران کے حملے نسبتاً سستے تھے۔ یہ معاشی عدم توازن خود ایک جنگی ہتھیار ہے، جسے ایران نے بخوبی سمجھا۔
کیا اسرائیل خلیجی ممالک کو ایرانی حملوں سے بچا رہا ہے؟
یہ خطے کی سب سے بڑی جغرافیائی سیاسی تبدیلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل نے خفیہ طور پر اپنے آئرن ڈوم سسٹم کو متحدہ عرب امارات میں تعینات کیا اور اسے چلانے کے لیے اپنے فوجی بھی وہاں موجود تھے ۔ اسرائیلی فوجیوں نے براہ راست اماراتی فوج کے ساتھ مل کر ایرانی میزائلوں کو ناکام بنایا۔ تصور کریں، وہ ممالک جو کبھی اسرائیل کا نام لینے سے گریز کرتے تھے، اب ان کی زمین پر اسرائیلی فوجی ایرانی حملے روک رہے ہیں۔ ایرانی میزائلوں نے وہ کر دکھایا جو کئی دہائیوں کی سفارتکاری نہ کر سکی: اسرائیل کو خلیجی ممالک کا سیکورٹی پارٹنر بنا دیا ۔
خلیجی ممالک کی فضائی دفاعی صلاحیتوں پر کیا اثر پڑا؟
خلیجی ممالک کے پاس جنگ سے پہلے تقریباً ۲۸۰۰ اعلیٰ معیار کے انٹرسیپٹر میزائل تھے۔ جنگ کے پہلے مہینے میں ہی ان میں سے ۲۴۰۰ استعمال ہو چکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ اگر ایران نے بڑے پیمانے پر حملہ کیا تو خلیجی ممالک کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کے میزائل پروگرام کو مستقل طور پر ختم کرے ۔ ایک سادہ جنگ بندی ان کے لیے کافی نہیں۔
کیا ایرانی میزائلوں نے خلیجی ممالک کو اسرائیل کے قریب کر دیا ہے؟
بالکل۔ یہ ایرانی حملوں کا سب سے بڑا الٹا اثر ہے۔ متحدہ عرب امارات کے سفارت کار یوسف العتیبا نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کافی نہیں، ایران کی میزائل صلاحیتوں کو مستقل طور پر ختم کیا جانا چاہیے ۔ قطر، جس نے کبھی ایران کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا تھا، اب اس نے ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا ہے اور ایرانی اثاثے منجمد کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔ سعودی عرب نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ایک مشترکہ دشمن نے ایسا اتحاد بنا دیا ہے جو چند ماہ پہلے تک ناممکن تھا۔
ماہرین کی رائے: ڈاکٹر فہد الشلیمی، کویتی فوج کے ریٹائرڈ کرنل، کا کہنا ہے کہ یہ جنگ خلیجی ممالک کی اپنی نہیں ہے، اس لیے وہ براہ راست شامل نہیں ہونا چاہتے ۔ دوسری طرف، یوسف العتیبا کا اصرار ہے کہ جنگ کے بعد جو بھی معاہدہ ہو، اس میں ایران کے میزائل پروگرام کو لازمی شامل کیا جائے ۔ یہ اختلاف خلیجی ممالک کی مشکل پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا ایرانی میزائل حملوں میں خلیجی ممالک کے شہری مارے گئے؟
جواب: جی ہاں، اگرچہ ایران کا دعویٰ تھا کہ وہ صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے، لیکن متعدد ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں اور ہوٹلوں پر بھی حملے ہوئے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا ۔
سوال: کیا خلیجی ممالک امریکہ پر اعتماد کرتے ہیں؟
جواب: بڑھتی ہوئی بے اعتمادی ہے۔ خلیجی ممالک کو ڈر ہے کہ کہیں امریکہ اچانک جنگ بندی نہ کر لے اور انہیں ایران کے ساتھ طویل کھائی کی جنگ میں تنہا نہ چھوڑ دے، جیسا کہ ماضی میں افغانستان اور کردوں کے ساتھ ہوا ۔
سوال: کیا چین خلیجی ممالک کو دفاعی نظام فراہم کر سکتا ہے؟
جواب: ہاں، چین ایک ابھرتا ہوا دفاعی پارٹنر ہے۔ چینی نظام امریکی نظاموں کے مقابلے میں زیادہ سستے ہیں اور ان پر کوئی سیاسی شرائط عائد نہیں کی جاتیں۔ خلیجی ممالک چین سے جدید ترین فضائی دفاعی نظام حاصل کر سکتے ہیں تاکہ امریکہ پر انحصار کم ہو سکے ۔
سوال: کیا ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں؟
جواب: ایک اماراتی اہلکار کے مطابق، ان حملوں نے ایک "بڑا اعتماد کا خلا" پیدا کر دیا ہے جو دہائیوں تک قائم رہے گا۔ وہ پڑوسی تو رہیں گے، لیکن رشتہ کبھی پہلے جیسا نہیں رہے گا ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know