عید الفطر کی رحمت: کیسے ایک خط نے بدل دی امریکی شہری کی تقدیر؟
عید الفطر کی خوشیاں جہاں دنیا بھر کے مسلمان اپنے پیاروں کے ساتھ منا رہے تھے، وہیں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک ماں کے دل کی آواز نے ایک بیٹے کی ۴۲۱ روزہ جدائی کو خوشی میں بدل دیا۔ ڈینس کوائل، جو جنوری ۲۰۲۵ء سے طالبان کی حراست میں تھے، ان کی والدہ کے ایک خط نے ان کی رہائی کی راہ ہموار کی.
ڈینس کوائل کی والدہ کا خط: عید الفطر کی رحمت
طالبان کی وزارت خارجہ کے مطابق، ڈینس کوائل کی والدہ نے خود افغانستان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ کو خط لکھا جس میں انہوں نے عید الفطر کے موقع پر اپنے بیٹے کی رہائی اور معافی کی درخواست کی۔ یہ خط محض ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ ایک ماں کے دل کی ٹھوکر تھی جس نے ۴۲۱ روز کی جدائی کی کہانی سنائی.
افغانستان کی سپریم کورٹ نے اس درخواست پر غور کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ڈینس کوائل کی حراست کی مدت کافی ہے اور انہیں رہا کیا جائے۔ طالبان حکومت نے اس فیصلے کو "انسانی ہمدردی اور حسن نیت" قرار دیا.
رہائی کی تیاری: کابل ایئرپورٹ کا تاریخی لمحہ
کابل ایئرپورٹ پر منگل کے روز ایک منظر ایسا تھا جسے شاید ہی کوئی بھلا سکے۔ ڈینس کوائل، جو ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے قید میں تھے، ایک چھوٹی سی پریس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ ان کے ساتھ سابق امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اور متحدہ عرب امارات کے سفیر سیف محمد الکتبی موجود تھے.
زلمے خلیل زاد، جنہوں نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، اس موقع پر بطور امریکی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھے لیکن ان کی موجودگی اس رہائی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ "ایک بہت مثبت پیش رفت اور حکام کا اچھا فیصلہ" ہے.
متحدہ عرب امارات: ثالث سے میزبان تک
جب ڈینس کوائل کابل ایئرپورٹ سے اماراتی نجی طیارے میں سوار ہوئے تو یہ منظر ایک نئی سفارتی حقیقت کی عکاسی کر رہا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے نہ صرف اس رہائی میں ثالثی کی بلکہ اس آپریشن کی میزبانی بھی کی۔ اماراتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ "ریاست ہائے متحدہ اور افغانستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس آپریشن کے لیے متحدہ عرب امارات پر اعتماد کیا" .
یہ اعتماد اتفاقی نہیں۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برسوں میں متعدد مشکل سفارتی مقدمات میں ثالثی کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ڈینس کوائل کی رہائی اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے.
امریکی ردعمل: یرغمالی سفارت کاری کا خاتمہ؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس رہائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے "مثبت قدم" قرار دیا۔ تاہم ان کا بیان ایک واضح پیغام بھی تھا: "طالبان کو یرغمالی سفارت کاری کا عمل ختم کرنا ہوگا" .
اس سے قبل امریکہ نے افغانستان کو "غیر قانونی حراست کا ریاستی سرپرست" قرار دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکی شہریوں کو رہا نہ کیا گیا تو وینزویلا اور ایران جیسی کارروائی ہو سکتی ہے .
امریکی خصوصی ایلچی ایڈم بولر نے اس بات پر زور دیا کہ اس رہائی میں "کوئی سودا نہیں ہوا، کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔ یرغمالی سفارت کاری ختم ہو چکی ہے".
Earlier this month, I met Molly, Amy, and Patti as they asked for help freeing their brother Dennis Coyle from detention in Afghanistan. Today, Dennis is on his way home. We thank the UAE and Qatar for their support. The release is a positive step towards ending the practice of…
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) March 24, 2026
باقی ماندہ امریکی شہری: جدوجہد جاری
ڈینس کوائل کی رہائی کے موقع پر ان کے خاندان نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ان تمام خاندانوں کا ذکر کیا جو ابھی تک اپنوں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ "ہم ان خاندانوں کے درد کو سمجھتے ہیں جو ابھی تک اپنے پیاروں کے انتظار میں ہیں۔ محمود حبیبی اور پال اووربی کے خاندانوں کے لیے ہماری دعائیں ہیں" .
محمود شاہ حبیبی کا خاندان ابھی تک ان کی واپسی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ ان کے بھائی احمد حبیبی نے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ ہمارا خاندان بھی جلد یہ سکون محسوس کرے گا جو آج ڈینس کے خاندان کو ملا ہے".
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: ڈینس کوائل کی والدہ نے خط کس کو لکھا؟
جواب: انہوں نے افغانستان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ کو خط لکھا جس میں عید الفطر کے موقع پر اپنے بیٹے کی رہائی اور معافی کی درخواست کی.
سوال: طالبان نے اس خط پر کیا ردعمل دیا؟
جواب: افغانستان کی سپریم کورٹ نے اس درخواست پر غور کیا اور فیصلہ دیا کہ ڈینس کوائل کی حراست کی مدت کافی ہے، چنانچہ انہیں رہا کر دیا گیا.
سوال: کیا متحدہ عرب امارات اس رہائی میں شامل تھا؟
جواب: جی ہاں، متحدہ عرب امارات نے اس رہائی کی میزبانی کی اور ڈینس کوائل کو اماراتی نجی طیارے میں ابوظہبی منتقل کیا گیا.
سوال: امریکہ کا اس رہائی پر کیا موقف ہے؟
جواب: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے "مثبت قدم" قرار دیا اور کہا کہ یہ یرغمالی سفارت کاری کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے.
سوال: کیا اس رہائی میں قطر کا بھی کردار تھا؟
جواب: جی ہاں، قطر نے امریکہ اور طالبان کے درمیان رابطے میں مدد فراہم کی اور ڈینس کوائل سے ملاقاتیں کر کے ان کی صحت اور خاندان سے رابطے میں سہولت فراہم کی.
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know