سپریم کورٹ: 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت
سپریم کورٹ: 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت
سپریم کورٹ پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کا آغاز کیا ہے اور فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بنچ نے یہ کیس سنا جس میں 26 ویں آئینی ترمیم کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر بحث کی گئی۔
26 ویں آئینی ترمیم: کیا ہے معاملہ؟
26 ویں آئینی ترمیم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اہمیت رکھتی ہے۔ اس ترمیم کا مقصد چند مخصوص آئینی شقوں میں تبدیلی کرنا تھا، لیکن اسے بعض حلقوں کی جانب سے آئین کی روح کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ میں اس ترمیم کے خلاف درخواستیں دائر کی ہیں۔
سپریم کورٹ کا بنچ اور اہم ریمارکس
سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت آٹھ رکنی آئینی بنچ کر رہا ہے، جس میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، اور دیگر ججز شامل ہیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ اس مقدمے کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے، جس پر عدالت نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ جوڈیشل کمیشن کرتا ہے اور آئینی بنچ میں نامزد ججز ہی اس کیس کو سن سکتے ہیں۔
فل کورٹ کی تشکیل کا مسئلہ
وکلا نے فل کورٹ بنانے کی درخواست کی جس پر عدالت نے وضاحت دی کہ فل کورٹ کا فیصلہ چیف جسٹس کے پاس ہے۔ تاہم، ججز نے یہ بھی کہا کہ آئینی معاملات میں صرف آئینی بنچ ہی فیصلہ دے سکتا ہے۔ وکیل فیصل صدیقی نے اس موقف کو چیلنج کیا کہ 26 ویں ترمیم کا اطلاق ایوان کی مکمل نمائندگی کے بغیر کیا گیا ہے، اور اس میں کئی قانونی پیچیدگیاں ہیں۔
26 ویں ترمیم کی آئینی حیثیت
وکیلوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے، اور اس ترمیم کی منظوری کے وقت ایوان مکمل نہیں تھا۔ اس کے علاوہ، مخصوص نشستوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں جس کے تحت کچھ نمائندگی مکمل نہیں تھی۔
عدالت کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کیے اور کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے فل کورٹ کی تشکیل اور عدالتی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کی درخواست پر بھی نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
مستقبل میں کیا ہوگا؟
اس کیس کے فیصلے کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی اور آئینی صورتحال میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے آئینی ترمیم کے خلاف فیصلہ سیاسی اور قانونی لحاظ سے گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
نتیجہ
پاکستان کی آئینی تاریخ میں 26 ویں ترمیم ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کی اس سماعت اور فیصلے کا اثر نہ صرف اس ترمیم کی آئینی حیثیت پر پڑے گا بلکہ پاکستان کے آئینی عمل پر بھی اس کا دیرپا اثر ہوگا۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے کیس کی مزید سماعت کے بعد ہی اس معاملے پر حتمی فیصلہ ممکن ہو سکے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know