پیکا ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ سے منظور
پیکا ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ سے منظور: ایک متنازع قانون پر احتجاج کی لہر
پاکستان میں سینیٹ نے متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کو منظوری دے دی ہے جس پر ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بل وفاقی وزیر رانا تنویر احمد نے سینیٹ میں پیش کیا، جس کے بعد اس کے خلاف پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے ارکان نے ایوان میں ”پیکا ایکٹ نا منظور“ کے نعرے لگائے اور قانون کی مخالفت کی۔
پیکا ایکٹ کیا ہے؟
پیکا ایکٹ (پیمنٹ آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) 2016 میں متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے جرائم کو کنٹرول کرنا تھا۔ تاہم، اس ایکٹ میں ترامیم کے بعد اسے ایک متنازعہ قانون قرار دیا گیا ہے جسے اپوزیشن جماعتوں اور صحافی تنظیموں نے آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دیا ہے۔
پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی اہمیت
پیکا ایکٹ ترمیمی بل کا مقصد سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، تاہم اس ترمیمی بل پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ بل دراصل حکومت کے مخالفین کی آواز دبانے کے لیے لایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اس بل کو "کالا قانون" قرار دیا جا رہا ہے جو میڈیا اور شہریوں کی آزادی پر قدغن لگاتا ہے۔
سینیٹ میں شدید احتجاج
پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے دوران سینیٹ میں پی ٹی آئی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور اس بل کے خلاف نعرے بازی کی۔ قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے اس موقع پر کہا کہ اس بل کا مقصد صرف ایک سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنا ہے اور یہ قانون شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
اسی دوران اے این پی کے سینیٹرز نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ساتھ اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر ایمل ولی خان نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے ذریعے بولنے کی آزادی سلب کی جا رہی ہے اور میڈیا کے ساتھ مشاورت کے بغیر یہ بل منظور کیا جا رہا ہے۔
پارلیمانی رپورٹرز کا احتجاج
پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد پارلیمانی رپورٹرز نے بھی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا اور اس بل کو "کالا قانون" قرار دیا۔ پارلیمانی رپورٹرز کی ایسوسی ایشن نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون صحافت کی آزادی اور معلومات کے حق کے خلاف ہے۔
حکومت کی پوزیشن
حکومت نے اس بل کو ملک میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس بل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون عوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہے اور اس میں کئے گئے ترامیم کا مقصد انٹرنیٹ پر پھیلنے والے نفرت انگیز مواد کو روکنا ہے۔
نتیجہ
پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری نے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس بل پر شدید اختلافات ہیں، اور مختلف صحافتی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے اس بل کے خلاف اپنے احتجاج کا اظہار کیا ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا حکومت اس بل کو واپس لیتی ہے یا اسے عملی طور پر نافذ کرتی ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know