تمباکو کے نقصانات کو کم کرنا آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

 

                                                                                                                                                                          


 دماغ ایک پیچیدہ اور حیرت انگیز عضو ہے، لیکن بدقسمتی سے، تمباکو نوشی جیسی عادات اس کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہیں۔ بحیثیت نیورو سرجن، میں نے اپنی پریکٹس میں دماغی بیماریوں کے ایسے کیسز دیکھے ہیں جو تمباکو نوشی کے باعث پیدا ہوئے یا شدت اختیار کر گئے۔

تمباکو نوشی کے پھیپھڑوں اور دل پر مضر اثرات کے بارے میں تو ہر کوئی جانتا ہے، لیکن اس کے دماغ پر پڑنے والے تباہ کن اثرات سے لوگ اکثر بے خبر رہتے ہیں۔ تمباکو نوشی دماغی صحت کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، دماغی افعال کو کمزور کرتی ہے، فالج (stroke) کے خطرے کو بڑھاتی ہے، اور الزائمر (Alzheimer's) اور پارکنسنز (Parkinson’s) جیسی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

تمباکو نوشی اور دماغ کے لیے خطرناک کیمیکل

جب تمباکو جلا کر پیا جاتا ہے تو اس سے ہزاروں نقصان دہ کیمیکل خارج ہوتے ہیں جو براہِ راست دماغ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ کیمیکل دماغ کو آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال کر، سوزش (inflammation) پیدا کر کے، اور آکسیڈیٹو اسٹریس (oxidative stress) کے ذریعے نیورل راستوں (neural pathways) کو متاثر کرتے ہیں۔ نتیجتاً، تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں یادداشت، سیکھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔

امید کی کرن: تمباکو ہارم ریڈکشن (THR)

کیا یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے؟ خوش قسمتی سے، اس کا جواب "نہیں" ہے۔ تمباکو ہارم ریڈکشن (THR) کے ذریعے ہم ان اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ ویپنگ، اورل نیکوٹین پاؤچز، اور ہیٹڈ ٹوبیکو ڈیوائسز جیسے پروڈکٹس تمباکو نوشی کے خطرناک اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بات تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے کہ دھواں پیدا کرنے والے سگریٹس کے مقابلے میں یہ متبادل بہت کم نقصان دہ ہیں۔ مثال کے طور پر، یو کے رائل کالج آف فزیشنز کے مطابق، ویپنگ سگریٹ نوشی سے 95 فیصد کم نقصان دہ ہے۔

سویڈن کی کامیاب مثال

سویڈن کا تمباکو ہارم ریڈکشن ماڈل ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ چند دہائیوں پہلے سویڈن میں تقریباً آدھے مرد سگریٹ نوشی کرتے تھے، لیکن آج یہ شرح صرف 4.5 فیصد رہ گئی ہے، جو دنیا میں سب سے کم ہے۔ سویڈن نے یہ کامیابی سخت پابندیوں سے نہیں بلکہ متبادل مصنوعات کو فروغ دے کر حاصل کی، جیسے "snus" اور اورل نیکوٹین پاؤچز۔ ان پروڈکٹس کو عوام کے لیے سستا اور قابلِ رسائی بنایا گیا، جس نے سگریٹ نوشی کو کم کرنے میں مدد دی۔

پاکستان کے لیے سبق

پاکستان میں تمباکو نوشی کی شرح سویڈن کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ موجودہ قوانین زیادہ تر سخت پابندیوں پر مبنی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ دوبارہ سگریٹ نوشی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی نہ صرف عوامی صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کو بھی برقرار رکھتی ہے۔

پاکستان کو بھی سویڈن جیسے ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے، جہاں THR پروڈکٹس کو سستا، آسان اور عوامی سطح پر قابلِ رسائی بنایا جائے۔

دماغ کو صحت مند رکھنے کا موقع

بحیثیت نیورو سرجن، میں نے دماغ کی حیرت انگیز صلاحیت کو دیکھا ہے کہ یہ کیسے خود کو ٹھیک کر سکتا ہے، اگر اسے موقع دیا جائے۔ تمباکو ہارم ریڈکشن نہ صرف دماغ بلکہ لاکھوں زندگیوں کو بچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آئیے، تمباکو نوشی سے آزاد پاکستان کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنائیں!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟