وزیر اعظم اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کی ملاقات: پروگرام اور میکرو اکنامک استحکام پر گفتگو

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کرسٹالینا جارجیوا سے دبئی میں ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام اور حکومتی اصلاحات کے ذریعے حاصل ہونے والے میکرو اکنامک استحکام پر تفصیل سے گفتگو کی۔ یہ ملاقات ورلڈ گورنمنٹس سمٹ (ڈبلیو جی ایس) 2025 کے دوران ہوئی۔

آئی ایم ایف پروگرام اور حکومت کی اصلاحات

وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (EEF) کے تحت ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے معاشی استحکام کے حصول کے لیے کئی اہم اصلاحات کی ہیں۔ خاص طور پر ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی کارکردگی میں بہتری اور نجی شعبے کی ترقی کے اقدامات کو تسلیم کیا گیا۔

پاکستان کی معاشی استحکام کے لائحہ عمل پر گفتگو

وزیر اعظم نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو پاکستان کے معاشی استحکام کے لائحہ عمل، مؤثر کارکردگی اور پائیدار منصوبہ بندی کے بارے میں یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جامع اور پائیدار ترقی حاصل کرنے کے لیے حکومت نے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔

کرسٹالینا جارجیوا کا ردعمل

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے وزیر اعظم کی قیادت کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے بعد ترقی کی سمت میں گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں افراط زر میں کمی کے ساتھ ساتھ معیشت کی کارکردگی بھی بہتر ہو رہی ہے۔

پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت

کرسٹالینا جارجیوا نے وزیر اعظم کی قیادت میں پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی کے حصول میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کردار انتہائی اہم ہے۔ مزید برآں، انہوں نے طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، ادارہ جاتی اصلاحات اور موثر گورننس کی اہمیت پر زور دیا۔

پاکستان کی ترقی کی راہ پر گامزن ہے

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے پاکستان معاشی بحالی کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے۔

خلاصہ:

وزیر اعظم شہباز شریف اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی ملاقات میں پاکستان کی معاشی استحکام، حکومتی اصلاحات اور آئی ایم ایف کے قرض پروگرام پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی معیشت کی استحکام کی طرف بڑھنے اور ترقی کے حصول کے لیے اہم اقدامات کی حمایت کی۔ یہ ملاقات پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔


 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟