خضدار میں سکول بس پر دہشت گرد حملہ




خضدار میں سکول بس پر دہشت گرد حملہ، 3 بچوں سمیت 5 افراد شہید

خضدار، بلوچستان – بلوچستان کے ضلع خضدار میں افسوسناک اور بزدلانہ دہشت گرد حملے میں سکول بس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین معصوم بچے اور دو دیگر افراد شہید ہو گئے، جبکہ متعدد بچے زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کا بیان: بھارتی پشت پناہی میں دہشتگردی

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ حملہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگردوں نے کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دشمن میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے حساس علاقوں میں پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کروا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق:

"خضدار میں معصوم بچوں کی سکول بس پر حملہ بھارتی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور تعلیمی نظام کو متاثر کرنا ہے۔"

ملکی قیادت کی شدید مذمت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے خضدار حملے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"معصوم بچوں اور ان کے اساتذہ کی شہادت قومی سانحہ ہے، مجرموں کو فوری کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔"

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ:

"بھارتی سرپرستی میں پلنے والے دہشتگردوں نے بچوں کو نشانہ بنا کر درندگی کی تمام حدیں پار کر دیں۔ بلوچستان میں تعلیم دشمنی کا یہ واقعہ ناقابل برداشت ہے۔"

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا:

"معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے درندے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ دشمن ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے، لیکن قوم متحد ہو کر ہر چال کو ناکام بنائے گی۔"

خضدار حملہ: ایک انسانیت سوز واقعہ

یہ واقعہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قومی سانحہ ہے۔ اس حملے نے واضح کر دیا ہے کہ دشمن عناصر تعلیم، امن اور بچوں کے محفوظ مستقبل کے خلاف منظم سازشوں میں مصروف ہیں۔ عوام، افواج پاکستان اور تمام ادارے مل کر ان عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟