پاک فوج کی برتری، سندھ طاس معاہدہ اور کشمیر کا مسئلہ:


 

پاک فوج کی برتری، سندھ طاس معاہدہ اور کشمیر کا مسئلہ: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا دبنگ انٹرویو

) ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بھارت کی حالیہ جارحیت، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، کشمیر کے تنازع اور پاکستانی فوج کی برتری پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق، پاکستانی فوج نے بھارت کے حالیہ حملے کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا، اور 6 بھارتی طیارے تباہ کر کے واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارتی فضائیہ اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر حملہ کرنے کے باوجود اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ پاکستان نے 26 اہداف کو نشانہ بنایا اور ان سب پر کامیابی سے حملہ کیا۔ اس کارروائی نے دنیا بھر میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو تسلیم کروایا۔

سندھ طاس معاہدہ اور کشمیر

ترجمان پاک فوج نے بھارت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو نتائج سنگین ہوں گے۔ ان کے مطابق، کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اگر کل کو کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں تو چھے کے چھے دریا پاکستان کے حصے میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 1960 میں ہونے والے معاہدے کو ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے کیا گیا تھا، جس میں تین دریا پاکستان اور تین بھارت کو دیے گئے تھے۔

جنگ میں سچائی، اتحاد اور شفافیت

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارت پر جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈہ کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ شفافیت کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی میڈیا اور حکومت مسلسل جھوٹ بولتے رہے، یہاں تک کہ جعلی تصاویر بھی استعمال کی گئیں۔ اس کے برعکس، پاکستانی میڈیا، حکومت اور عوام نے مل کر اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

پاکستانی فضائیہ پر فخر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حالیہ فضائی جھڑپ کو دنیا بھر کے ایئر وار کالجز میں کئی دہائیوں تک پڑھایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ صرف ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی فضائی، بحری، زمینی افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کی ایک شاندار مثال ہے۔

بھارتی انتہا پسندی اور داخلی مسائل

جنرل احمد شریف کے مطابق، بھارت میں انتہا پسندی، اقلیتوں پر مظالم اور میڈیا پر قدغنیں ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دلتوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس اندرونی انتشار کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے میں بدل دیتا ہے۔

غزہ کی صورتحال پر مؤقف

غزہ پر گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ کھلی نسل کشی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر قوم کو اپنی حفاظت کے لیے خود مختار اور طاقتور ہونا چاہیے تاکہ بیرونی مداخلت کا مقابلہ کر سکے۔

نتیجہ: امن کے لیے انصاف ضروری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنگ بندی صرف فائر بند کرنا نہیں بلکہ اصل امن تب ہی ممکن ہے جب بھارت کشمیر پر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور اقلیتوں پر ظلم بند کرے۔ اس کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟