پاکستان اور ایران کے تعلقات میں نئی پیشرفت،
پاکستان اور ایران کے تعلقات میں نئی پیشرفت، باہمی تجارت کا ہدف 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم اور مضبوط ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں برادر ممالک خطے کے امن، ترقی اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ وہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی دعوت پر ایران کے اہم سرکاری دورے پر ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات، علاقائی تعاون اور مشترکہ چیلنجز پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
باہمی تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تجارت کو موجودہ تین ارب ڈالر سالانہ سے بڑھا کر دس ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
پاک ایران اشتراک سے مسلم دنیا کو فائدہ
شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران خطے میں امن، ترقی اور مسلم دنیا کی وحدت کے لیے ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات مثبت نتائج دیں گے، جس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ معاشی استحکام کو بھی فروغ ملے گا۔
مسئلہ کشمیر پر ایران کی حمایت پر اظہار تشکر
وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایران کے اصولی مؤقف اور مسلسل حمایت پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی، جسے پاکستان نے خوش دلی سے قبول کیا، تاہم بھارت نے اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
نتیجہ
وزیراعظم شہباز شریف کے اس دورہ ایران سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ایران تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کا باہمی تجارتی ہدف دس ارب ڈالر مقرر کرنا نہ صرف معاشی ترقی کی جانب بڑا قدم ہے بلکہ یہ خطے میں امن، تعاون اور بھائی چارے کی مثال بھی ہے۔ مستقبل قریب میں ان تعلقات کے مزید مستحکم ہونے کے امکانات روشن ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know