پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تعلقات میں نیا موڑ: 12ویں جوائنٹ منسٹریل


 

پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تعلقات میں نیا موڑ: 12ویں جوائنٹ منسٹریل کمیشن اجلاس کا انعقاد

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہیں جہاں وہ پاکستان-یو اے ای جوائنٹ منسٹریل کمیشن (JMC) کے 12ویں اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس دونوں برادر ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کو مزید گہرا اور مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔

جوائنٹ منسٹریل کمیشن کا مقصد

جوائنٹ منسٹریل کمیشن پاکستان اور یو اے ای کے درمیان اعلیٰ سطحی ادارہ جاتی تعاون کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ اس اجلاس میں معاشی، توانائی، تجارتی، انفراسٹرکچر اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

پاکستانی وفد کی قیادت

پاکستانی وفد کی قیادت اسحاق ڈار کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں اقتصادی امور، تجارت، توانائی، میری ٹائم افیئرز اور داخلہ کی وزارتوں کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

اماراتی قیادت

یو اے ای کی جانب سے وفد کی قیادت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کر رہے ہیں، جن کے ہمراہ مختلف اماراتی اداروں کے سینئر حکام موجود ہیں۔

متوقع معاہدے اور قانونی دستاویزات

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں کئی اہم قانونی معاہدے متوقع ہیں جو مختلف شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوں گے۔

اقتصادی تعلقات کی موجودہ صورتحال

یو اے ای پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس نے گزشتہ 20 سالوں میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ جغرافیائی قربت کی وجہ سے پاکستان کے پالیسی ساز متحدہ عرب امارات کو برآمدات کے لیے ایک موزوں منزل تصور کرتے ہیں۔

حالیہ پیش رفت

جنوری 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان 3 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدے طے پائے جن میں ریلوے، اکنامک زونز اور انفراسٹرکچر شامل تھے۔

اجلاس کی اہمیت

دفتر خارجہ کے مطابق، “یہ اجلاس دونوں ممالک کے لیے اپنی اقتصادی ترجیحات کو ہم آہنگ کرنے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا ایک اہم موقع ہے۔”


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟