علیمہ خان کا انکشاف: عمران خان کو 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے کا پیغام دیا گیا، لیکن وہ ثبوت مانگتے رہے
علیمہ خان کا انکشاف: عمران خان کو 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے کا پیغام دیا گیا، لیکن وہ ثبوت مانگتے رہے
ایچ ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، پی ٹی آئی کی بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کو 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے کا پیغام دیا گیا، تاہم عمران خان نے ایک بار پھر ویڈیو ثبوت مانگ لیے کہ آیا واقعی پی ٹی آئی قیادت یا کارکنان اس میں ملوث تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، عمران خان کی بہنوں نے بتایا کہ عمران خان کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کے لیے انصاف کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سمبڑیال، گوجرانوالہ میں بدترین دھاندلی کا الزام بھی عائد کیا۔
ایک سوال کے جواب میں علیمہ خان نے کہا:
"تنویر احمد شوکت خانم کے ڈونر ہیں، ہم انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔ جب تنویر احمد نے عمران خان سے ملاقات کی، اُس وقت میری بہنیں اور میں جیل میں تھیں۔"
علیم خان نے تسلیم کیا کہ تنویر احمد کے اسٹیبلشمنٹ سے روابط ہیں اور وہی شخص تھا جس نے عمران خان سے ملاقات کا بندوبست کیا۔ علیمہ نے مزید کہا کہ تنویر احمد کے ذریعے پی ٹی آئی کے بانی سے کہا گیا کہ وہ 9 مئی پر معافی مانگیں۔
عظمیٰ خان نے بتایا کہ تنویر احمد پہلی بار ملے اور دوسری بار بھی آئے، لیکن عمران خان نے انہیں ملنے سے منع کر دیا۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ جب دباؤ بڑھتا ہے تو اُن کے پاس "ٹیمیں" بھیجی جاتی ہیں تاکہ وہ معافی مانگ لیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے کہا ہے کہ وہ جیل سے ہی تحریک کی قیادت کریں گے اور 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر لائی جائے۔ علیمہ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو بالواسطہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہ فوٹیج پر بات نہ کریں۔
عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ "لندن پلان" کے تحت 26ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی اور 9 مئی کا واقعہ اسی منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ 10 ہزار سے زائد پی ٹی آئی کارکنان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔
علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا مؤقف ہے کہ حقیقی انقلاب 8 فروری کی شام کو آیا جب عوام نے پی ٹی آئی کی حمایت کی، مگر 9 فروری کو حکومت اُن لوگوں کے حوالے کر دی گئی جن کے پاس صرف 17 نشستیں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ نے عمران خان سے ان کی دو بہنوں کی ملاقات کی اجازت دی، مگر علیمہ کو روک دیا گیا۔ عمران خان نے اپنی بہنوں کو بتایا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منصوبہ بندی اُس وقت ہوئی جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ رخصت پر تھے۔ پی ٹی آئی کے بانی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر غیر آئینی طور پر اب بھی اپنے عہدے پر براجمان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ جیل سے ہی احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حقیقی جمہوریت چاہیے تو عوام کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔ عمران خان نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know