نئی الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی: 833
حکومت کی نئی الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی: 833 ارب روپے کی بچت اور ماحول دوست پاکستان کی جانب اہم قدم
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی (Electric Vehicle Policy) متعارف کرا دی ہے جس کا مقصد نہ صرف تیل کی درآمدات میں کمی لانا ہے بلکہ ملک کو ماحولیاتی طور پر محفوظ بنانا بھی ہے۔ معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے ایک اہم پریس کانفرنس میں اس پالیسی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی سے آنے والے پانچ سالوں میں 833 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
نئی EV پالیسی کی نمایاں خصوصیات
-
سالانہ 2 ارب 7 کروڑ لیٹر پیٹرول کی بچت
-
درآمدی بل میں ایک ارب ڈالر کمی
-
پانچ سال میں 100 ارب روپے کی سبسڈی
-
پہلے سال میں 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس کو سبسڈی
-
3 ہزار سے زائد رکشہ جات اور چارجنگ اسٹیشنز کو مراعات
-
EV سبسڈی اور استعمال کا سینٹرلائزڈ سسٹم قائم کیا جائے گا
-
نئے الیکٹرک وہیکل رولز (EV Rules) تیار کیے جا رہے ہیں
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ کیوں ضروری ہے؟
پاکستان میں توانائی کا بڑا انحصار درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر ہے جس سے نہ صرف ملکی زرمبادلہ پر بوجھ پڑتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ نئی الیکٹرک گاڑی پالیسی سے نہ صرف کاربن فٹ پرنٹ میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ عوام کو سستا اور ماحول دوست سفر بھی فراہم کیا جائے گا۔
حکومت کی سبسڈی اسکیم کا فائدہ کس کو ہوگا؟
حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی سے ابتدائی طور پر الیکٹرک بائیکس، رکشہ جات اور چارجنگ انفراسٹرکچر کو فائدہ پہنچے گا۔ اس اقدام سے مقامی مینوفیکچرنگ کو بھی فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
مستقبل کا روڈ میپ
حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل قریب میں تمام ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مرحلہ وار الیکٹرک پر منتقل کیا جائے گا۔ اس کے لیے EV چارجنگ اسٹیشنز کے قیام، نئے قوانین اور شہری آگاہی مہمات پر کام جاری ہے۔
نتیجہ
نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی پاکستان کے توانائی بحران، ماحولیاتی آلودگی، اور درآمدی انحصار کے حل کی طرف ایک مثبت اور دیرپا قدم ہے۔ اگر اس پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جائے تو آنے والے برسوں میں پاکستان ماحول دوست، خودکفیل اور سستا سفر فراہم کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know