کا پاکستان میں تیسرا ماڈل "شارک 6"

BYD کا پاکستان میں تیسرا ماڈل "شارک 6" جلد متعارف، 2026 تک مقامی اسمبلنگ کی تیاری

کراچی، 24 جولائی (رائٹرز) – چین کی مشہور الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی BYD نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنا تیسرا ماڈل "شارک 6" جمعہ کے روز لانچ کرے گی، جب کہ کمپنی 2026 کے وسط تک پاکستان میں اپنی پہلی مقامی اسمبلڈ کار متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

BYD پاکستان میں کیا نیا لانے جا رہا ہے؟

BYD، جو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک وہیکل (EV) بنانے والی کمپنی ہے، پاکستان کی بڑھتی ہوئی آٹو مارکیٹ میں قدم جما رہی ہے۔ کمپنی کی حکمتِ عملی کے مطابق، وہ 2026 تک مقامی سطح پر کاریں اسمبل کرنا شروع کرے گی تاکہ پاکستان میں الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔

مقامی مارکیٹ میں 30-35 فیصد حصے کا ہدف

BYD کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ وہ اپنے نئے ماڈل "شارک 6" کے ذریعے پاکستانی مارکیٹ میں 30 سے 35 فیصد تک کا حصہ حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ یہ ماڈل جدید خصوصیات اور شاندار ڈیزائن کے ساتھ خریداروں کی توجہ کا مرکز بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستانی صارفین کے لیے ایک نیا موقع

BYD کی جانب سے پاکستان میں پلانٹ کا قیام نہ صرف مقامی پیداوار کو فروغ دے گا بلکہ صارفین کو قیمت میں کمی، اسپیئر پارٹس کی دستیابی اور فوری سروسز جیسے فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ مزید یہ کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے گرین وہیکلز کے لیے دی جانے والی مراعات بھی اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں مددگار ہوں گی۔

شارک 6: مستقبل کی گاڑی

"شارک 6" ایک ہائی ٹیک پِک اپ ٹرک ہے، جو جدید الیکٹرک ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ یہ ماڈل خاص طور پر اُن صارفین کے لیے تیار کیا گیا ہے جو طاقت، پائیداری اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو یکجا دیکھنا چاہتے ہیں۔

نتیجہ

BYD کا پاکستان میں تیزی سے قدم جمانا اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل روشن ہے۔ مقامی اسمبلنگ، حکومت کی مراعات، اور صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی، ان تمام عوامل سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں بڑا انقلاب آ سکتا ہے۔


 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟