پاکستان نیوی کو برطانیہ سے جدید ہوورکرافٹ کی منتقلی
پاکستان نیوی کو برطانیہ سے جدید ہوورکرافٹ کی منتقلی – دفاعی صلاحیتوں میں اہم اضافہ
پاکستان نیوی کو حال ہی میں برطانیہ سے تین جدید ہوورکرافٹ حاصل ہوئے ہیں جو پہلے رائل میرینز کے زیر استعمال تھے۔ یہ دفاعی معاہدہ حکومت برطانیہ اور حکومت پاکستان کے درمیان حکومت در حکومت (G2G) بنیاد پر طے پایا، جس کا اعلان UK Defence Equipment & Support (DE&S) نے 30 جون کو کیا۔
ہوورکرافٹ کی خصوصیات اور دفاعی اہمیت
برطانیہ سے ملنے والے یہ 2400TD(M)-کلاس لینڈنگ کرافٹ ایئر کشن (LCACs) جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور ان کا استعمال پہلے برطانیہ کی 539 اسالٹ اسکواڈرن کے زیر نگرانی ہوتا تھا۔ یہ 10.6 ٹن وزنی ہوورکرافٹ 13.4 میٹر لمبے ہیں اور Deutz V8 واٹر کولڈ ڈیزل انجنز سے چلتے ہیں، جن کی رفتار 35 ناٹ تک پہنچ سکتی ہے جبکہ 300 ناٹیکل میل کا فاصلہ با آسانی طے کر سکتے ہیں۔
پاکستان نیوی کے لیے ممکنہ فوائد
DE&S کے مطابق، یہ ہوورکرافٹ پاکستان کے سمندری ماحول اور ساحلی علاقوں کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ ان کی مدد سے پاکستان نیوی:
-
ساحلی نگرانی (Coastal Patrols)
-
انسانی امدادی مشنز (Humanitarian Assistance Operations)
-
کم گہرے پانیوں میں تیزی سے تعیناتی (Rapid Deployment in Shallow Waters)
جیسے اہم مشنز کو موثر طریقے سے انجام دے سکے گی۔
مشترکہ عالمی سیکیورٹی میں تعاون
کموڈور رچرڈ ویلی, جو DE&S میں ایکسپورٹس اینڈ سیلز کے سربراہ ہیں، نے کہا:
"ان آزمودہ اثاثوں کی منتقلی سے ہم پاکستان نیوی کی صلاحیتوں کو بڑھا رہے ہیں تاکہ وہ ساحلی اور آبی مشنز بہتر انداز میں انجام دے سکے، جو ہمارے مشترکہ عالمی سیکیورٹی کے ہدف کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔"
نتیجہ
یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ برطانیہ کے لیے بھی دفاعی بجٹ میں مثبت واپسی کا باعث بنے گا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا ثبوت ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know