سانحہ لورالائی:
سانحہ لورالائی: دہشتگردی کا ایک اور خونی باب، جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے دو سگے بھائی بھی شہید
بلوچستان کے ضلع لورالائی کے علاقے سرڈھاکہ میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ایک بار پھر پاکستان میں دہشتگردی کے خطرے کی گہرائیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ جمعرات کی رات دہشتگردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی دو مسافر کوچز کو نشانہ بنایا، جس میں کم از کم نو (9) معصوم شہریوں کو بسوں سے اتار کر بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔
شہداء میں دو سگے بھائی بھی شامل
اس المناک سانحے میں تحصیل دنیاپور، ضلع لودھراں کے رہائشی دو سگے بھائی جابر اور عثمان بھی شامل تھے، جو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے پنجاب جا رہے تھے۔ ان کی المناک شہادت نے پورے علاقے کو غم کی فضا میں ڈوبا دیا۔
شہداء کی شناخت
لورالائی سانحے میں شہید ہونے والے دیگر افراد کا تعلق بھی مختلف علاقوں سے تھا، جن میں:
-
صابر حسین ولد محمد ریاض – کامکی، گوجرانوالہ
-
محمد آصف ولد سلطان – چوک قریشی، ڈیرہ غازی خان
-
غلام سعید ولد غلام سرور – خانیوال
-
محمد جنید – لاہور
-
محمد بلال ولد عبد الوحید – اٹک
-
بلاول – گجرات
کے رہائشی شامل ہیں۔ ایک شہید مسافر کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی کیونکہ اس کے شناختی کاغذات دہشتگرد اپنے ساتھ لے گئے۔
لاشوں کی پنجاب منتقلی اور حکومتی اقدامات
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور بارڈر ملٹری پولیس کے کمانڈنٹ محمد اسد خان چانڈیہ نے شہداء کی لاشیں وصول کیں اور انہیں ان کے آبائی علاقوں کے لیے روانہ کیا۔ ذرائع کے مطابق بارڈر ملٹری پولیس ان میتوں کو مکمل احترام کے ساتھ متعلقہ اضلاع تک پہنچا رہی ہے۔
ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے، جس کے ترجمان کے مطابق یہ واقعہ موسیٰ خیل-مکھتر اور خجوری کے درمیان پیش آیا، جہاں انہوں نے شاہراہ بند کرکے مسافروں کو اغوا کیا اور بعد ازاں قتل کر دیا۔
بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال
یہ واقعہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی ایک خطرناک علامت ہے۔ اس سے قبل بھی قلات، مستونگ اور دیگر علاقوں میں مسافر بسوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کی صورتحال نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ پورے ملک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
عوامی مطالبات اور حکومتی ذمہ داریاں
اس المناک واقعے کے بعد عوام کی جانب سے سکیورٹی اقدامات کو بہتر بنانے اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک ریاستی رٹ کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا جائے گا، ایسے واقعات رکنے کا امکان کم ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know