اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس میں خلل، صارفین پریشان


 اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس میں خلل، صارفین پریشان


اسلام آباد: ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کی جانب سے فراہم کی جانے والی مشہور سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس "اسٹارلنک (Starlink)" کو پیر کے روز ایک مختصر لیکن نمایاں نیٹ ورک آؤٹج کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیکنالوجی مسائل کو ٹریک کرنے والی ویب سائٹ Downdetector کے مطابق ہزاروں صارفین نے اچانک سروس میں رکاوٹ کی شکایات درج کرائیں۔


دو ہفتوں میں دوسرا آؤٹج


یہ آؤٹج دو ہفتوں میں پیش آنے والا دوسرا بڑا خلل تھا۔ اس سے قبل ۲۴ جولائی کو اسٹارلنک کی سروس کئی گھنٹوں تک متاثر رہی تھی۔ اس وقت کمپنی کے وائس پریزیڈنٹ برائے اسٹارلنک انجینئرنگ، مائیکل نکولز نے وضاحت دی تھی کہ یہ مسئلہ "اہم اندرونی سافٹ ویئر سروسز کی ناکامی" کے باعث پیش آیا، جو اسٹارلنک کے کور نیٹ ورک کو چلاتی ہیں۔


T-Mobile اور نیا سیٹلائٹ سروس فیچر


یہ آؤٹج اس وقت سامنے آیا جب حال ہی میں T-Mobile نے اسٹارلنک پاورڈ سیٹلائٹ سروس لانچ کی تھی، جسے براہِ راست موبائل فونز کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس سروس کا مقصد ان صارفین کو بھی کنیکٹیویٹی فراہم کرنا ہے جو ان جگہوں پر موجود ہوں جہاں روایتی موبائل ٹاورز تک رسائی ممکن نہیں۔


دنیا بھر میں اسٹارلنک صارفین


اسپیس ایکس کے مطابق، فی الحال اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس ۱۴۰ ممالک میں ۶ ملین سے زائد صارفین کو فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم کمپنی اپنے صارفین کی تعداد میں کمی یا اضافے (churn & subscriber rates) کی تفصیلات عوامی طور پر ظاہر نہیں کرتی۔


صارفین کے لیے اثرات


اگرچہ یہ آؤٹج مختصر وقت کے لیے تھا، مگر اس نے دنیا بھر کے صارفین کو متاثر کیا۔ تیز رفتار انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنی شکایات اور خدشات کا اظہار بھی کیا۔ اب صارفین کو توقع ہے کہ اسپیس ایکس مستقبل میں ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مزید مضبوط نیٹ ورک سیکیورٹی اور سافٹ ویئر اسٹیبلیٹی اقدامات کرے گی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟