وزیر دفاع خواجہ آصف نے مصنوعی ذہانت


 وزیر دفاع خواجہ آصف نے مصنوعی ذہانت پر سلامتی کونسل میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے بڑھتی ہوئی عسکری تشکیل سنگین خطرہ ہے، پاکستان نے رواں سال اپنی پہلی مصنوعی ذہانت پالیسی بنائی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایٹمی طاقت نے دوسری ایٹمی طاقت پر تیز رفتار میزائل اور کروز داغے، اے آئی کے استعمال سے سفارت کاری کا راستہ محدود ہو جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی امن کے لئے اختراع کو ترجیح دینا ہوگی، اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت مصنوعی ذہانت کا امن کیلئے استعمال ہونا چاہئے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟