نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے فلسطینی اتھارٹی اس معاہدے کو خوش آمدید کہہ
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے فلسطینی اتھارٹی اس معاہدے کو خوش آمدید کہہ رہی ہے اور یہاں اس پر تنقید ہو رہی ہیں، کچھ لوگ جن کا مقصد ہی سیاست ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سیاست کے لیے غزہ معاہدے کی مخالفت کی جا رہی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ وہاں معصوم شہریوں کا خون بہتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 8 مسلم ممالک کے سربراہان کی ملاقات کا مقصد غزہ میں امن واپس لانا تھا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں قیام امن کے لیے وزیراعظم شہباز شریف بالکل واضح تھے، ہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے قبل ہی غزہ کے مسئلے پر مسلم ممالک سے رابطے شروع کر دیئے تھے، پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کی کوشش تھی کہ کسی طریقے سے غزہ میں امن بحال کیا جا سکے۔
انہوں نےکہا کہ امریکی صدر سے ملاقات سے قبل 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک میٹنگ شیڈول کی، میٹنگ کے ایجنڈے میں غزہ میں فوری طور پر سیز فائر کی کوشش، معصوموں کا خون بہنے کا سلسلہ روکنا، پٹی میں امداد پہنچانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ غزہ کے شہریوں کی علاقہ بدری کو روکنا، جو شہری پہلے ہی علاقہ چھوڑ چکے ہیں انہیں واپس لانا، تباہ شدہ پٹی کی بحالی کے عمل کو ممکن بنانا اور اسرائیل کے ویسٹ بینک کو ہڑپنے کے پروگرام کا سدباب کرنا تھا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know