ترجمان دفترخارجہ نے کہاہے کہ وزیراعظم


 ترجمان دفترخارجہ نے کہاہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کو امریکی صدر کی جانب سے غزہ کیلئے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کاکہناہے کہ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کیلئے عالمی کوششوں میں شریک رہے گا،وزیراعظم کو امریکی صدر کی جانب سے غزہ کیلئے بورڈ آف پیش میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق غزہ میں پائیدار امن کیلئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے، مسئلہ فلسطین کا دیرپا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ناگزیر ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق دنیا نے فلسطین پر پاکستان کے مستقل اور اصولی مؤقف کو تسلیم کر لیاہے ، دفترِ خارجہ نے بھی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت کی تصدیق کر دی ہے۔

 فلسطین میں جنگ کے خاتمے، انتظامی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سےغزہ پیش پلان اور اس کے تحت غزہ پیس بورڈجیسے مجوزہ انتظامی و سفارتی اقدامات زیرِ بحث ہیں، اسی تسلسل میں صدر ٹرمپ نے مختلف ممالک کے سربراہان کو دعوت نامے ارسال کیے ہیں تاکہ وہ اس مجوزہ امن بورڈ کا حصہ بنیں اور جنگ بندی کے بعد داخلی استحکام، امدادی کارروائیوں، بنیادی سہولیات کی بحالی اور طویل المدتی سیاسی حل کی سمت میں مشترکہ کوششوں میں شریک ہوں۔ 

وزیراعظم پاکستان کو بھی اس مجوزہ بورڈ میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے،یہ خبر نہ صرف انتہائی مثبت ہے بلکہ ایک کامیاب سفارتی پیش رفت بھی ہے،وزیراعظمِ پاکستان کو ایسے عالمی پلیٹ فارم کے لیے دعوت ملنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، سفارتی وزن اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، یہ کامیابی تسلسل کے ساتھ کی گئی ریاستی سفارت کاری، بروقت رابطہ کاری اور قومی مفادات کے مطابق مؤثر حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس میں سول ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ ملٹری ڈپلومیسی کی مربوط کاوشیں بھی شامل ہیں۔

 دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، بالغ نظر اور حل کی طرف لے جانے والے فریق کے طور پر دیکھ رہی ہے، پاکستان کی شرکت یا مثبت ردِعمل کی بنیاد کسی کیمپ کی سیاست نہیں،بلکہ فلسطینی عوام خصوصاً غزہ کے بے گناہ اور نہتے شہریوں پر ہونے والے مظالم کی تکالیف کم کرنے اور ایک منصفانہ، پائیدار حل کی عملی حمایت ہے، پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے حقِ خود ارادیت، شہریوں کے تحفظ، فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور تعمیرِ نو کی حمایت کرتا آیا ہے، اس تناظر میں یہ دعوت پاکستان کو موقع دیتی ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی کردار ادا کرے، بین الاقوامی فورمز پر انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر آواز بلند کرے اور ایسے فیصلوں میں اپنا اصولی مؤقف شامل کرے جو براہِ راست فلسطینیوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟