ٹرمپ بمقابلہ چین: کس نے ایشیا کی دوڑ میں کس کو پیچھے چھوڑ دیا؟


یہ سوال آج کل سفارتی حلقوں میں ایک گرما گرم بحث کا عنوان بنا ہوا ہے۔ جہاں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کو عظمت کی راہ پر گامزن کیا، وہیں دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی نے ایشیا میں امریکی قیادت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایشیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ٹرمپ کی حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی، اور بیجنگ نے اس خلا کو بخوبی بھرا ہے۔ 


کیا ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے چین کو کمزور کیا یا مضبوط؟

ٹرمپ نے چین کے خلاف سخت سے سخت ٹیرف عائد کیے، لیکن اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔ چین نہ صرف ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی پالیسیوں کو برداشت کرنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے ایشیا میں اپنی معاشی گرفت بھی مضبوط کر لی۔ چین نے اپنی مصنوعات کی منڈیاں ایشیا کے دیگر ممالک میں تلاش کر لیں، جس سے امریکی پابندیوں کا اثر کم ہو گیا۔ درحقیقت، اس تجارتی جنگ نے ایشیائی ممالک کو یہ سکھا دیا کہ وہ امریکہ پر انحصار کم کریں اور چین جیسی ابھرتی ہوئی معیشت کے ساتھ تعلقات بہتر بنائیں۔ 


علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے کیوں ایک دھچکا ہے؟

جب ٹرمپ نے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ (TPP) جیسے کثیرالاقوامی معاہدوں سے امریکہ کو الگ کر دیا، تو چین نے اس موقع کو غنیمت جانا۔ چین کی زیرقیادت علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری) نے ایشیا کی سب سے بڑی تجارتی اکائی تشکیل دے دی۔ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری نے ایشیائی ممالک کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر جمع کر دیا جہاں امریکہ کا کوئی مقام نہیں ہے۔ یہ معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ ٹرمپ کی تنہائی پسندانہ پالیسیوں نے امریکہ کو معاشی طور پر ایشیا سے باہر کر دیا، جبکہ چین خطے کا مرکز بن کر ابھرا۔


چین نے ٹرمپ کے دور میں ایشیا میں اپنی قیادت کیسے مضبوط کی؟

ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ" سفارت کاری نے ایشیا میں طاقت کا خلا پیدا کر دیا، جسے چین نے بڑی چابکدستی سے پر کیا۔ جہاں ٹرمپ اپنے اتحادیوں (جن میں جاپان، جنوبی کوریا اور فلپائن شامل ہیں) سے ٹیرف اور دفاعی اخراجات کے تنازعات میں الجھے رہے، وہاں چین نے سفارتی اور معاشی مدد کا ہاتھ بڑھایا۔ چین کی طرف سے شروع کیا گیا بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ (BRI) ایشیائی ممالک کے لیے ایک پرکشش متبادل بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے دور صدارت کے اختتام تک، ایشیا میں چین کی مقبولیت اور اثر و رسوخ میں غیرمعمولی اضافہ ہو چکا تھا۔ 


کیا بھارت اور امریکہ کی ’دوستی‘ ٹرمپ کے دور میں چین کے حق میں گئی؟

ٹرمپ اور نریندر مودی کی ظاہری دوستی نے کوئی ٹھوس اسٹریٹجک فائدہ نہیں پہنچایا۔ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے اور چابہار بندرگاہ سے پابندیاں ہٹانے سے انکار نے نئی دہلی کو مایوس کیا۔  بھارت کو یہ احساس ہو گیا کہ ٹرمپ کے ساتھ ’بغل گیر‘ ہونے کے باوجود، وہ چین کے مقابلے میں کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورت حال نے بھارت کو مجبوراً چین کے قریب جانے پر آمادہ تو نہیں کر دیا؟ اگرچہ بھارت نے چین کو واضح طور پر چیلنج کیا، لیکن ٹرمپ کی غیرمتوقع پالیسیوں نے علاقائی تعاون کو کمزور کیا، جس کا فائدہ بالواسطہ طور پر چین کو ہی پہنچا۔ 


ٹرمپ کی پابندیوں نے چین کو چابہار بندرگاہ کے معاملے میں کیسے فائدہ پہنچایا؟

ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف اپنی ’میکسمم پریشر‘ مہم کے تحت بھارت کو چابہار بندرگاہ پر کام کرنے سے روک دیا۔  یہ وہی بندرگاہ تھی جسے بھارت اور افغانستان کے لیے گوادر (جو چین نے پاکستان میں تعمیر کیا) کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ جب بھارت کو پسپا ہونا پڑا، تو چین کو وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے راستہ صاف ہوتا گیا۔ یہ ٹرمپ کی اسٹریٹجک نظراندازی کی ایک واضح مثال ہے، جہاں قلیل مدتی جارحیت نے طویل مدتی میں چین کے عزائم کو تقویت بخشی۔


FAQs: اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا واقعی چین ٹرمپ کے دور میں زیادہ طاقتور ہوا؟

جواب: جی ہاں، معاشی اور سفارتی میدانوں میں۔ جبکہ ٹرمپ نے چین کو کمزور کرنے کی کوشش کی، چین نے ایشیا میں علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری جیسے معاہدوں اور تجارتی راستوں کے ذریعے اپنی قیادت کو مستحکم کیا۔

سوال: کیا ٹرمپ کی ایشیا پالیسی دراصل چین فرسٹ ایجنڈا تھی؟

جواب: بظاہر نہیں، لیکن اس کے نتائج یقیناً چین کے حق میں رہے۔ ’امریکہ فرسٹ‘ کے نعرے نے ایشیائی اتحادیوں کو بیگانہ کر دیا، جس سے چین کو وہ جگہ ملی جو پہلے امریکہ کے پاس تھی۔

سوال: کیا بھارت نے ٹرمپ کی بجائے چین کا ساتھ دیا؟

جواب: براہ راست نہیں، بلکہ مجبوراً۔ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ جاری ہے، لیکن ٹرمپ کے تجارتی دباؤ نے بھارت کو چین کے ساتھ معاشی تعلقات بہتر بنانے پر مجبور کیا، کیونکہ وہاں مارکیٹ بڑی ہے۔

سوال: علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری نے امریکہ کو کیسے متاثر کیا؟

جواب: علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری نے امریکہ کو ایشیا کی معاشی پالیسیوں سے باہر کر دیا۔ اس معاہدے نے ایشیائی ممالک کے درمیان ٹیرف کم کیے، جس سے امریکی برآمدات خطے میں کم مسابقتی ہو گئیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟