ایران جنگ: امریکی افراط زر ۳.۸ فیصد کی خطرناک سطح پر


گزشتہ اپریل میں امریکی افراط زر ۳.۸ فیصد کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، جو گزشتہ تین برسوں میں اپنی سب سے تیز رفتار اضافے کی شرح ہے۔ محکمہ محنت کے تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے توانائی کی منڈیوں کو شدید بدامنی کا شکار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں پٹرول اور خوراک کی قیمتوں نے آسمان کو چھو لیا ہے۔ یہ صورتحال عام امریکی شہری کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔


ایران جنگ نے امریکی افراط زر پر کیا اثر ڈالا ہے؟

درحقیقت، گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل کا سلسلہ درہم برہم کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں، امریکہ میں اشاریہ افراط زر اپریل میں ایک ماہ کے دوران صفر اعشاریہ چھ فیصد جبکہ گزشتہ بارہ ماہ کے دوران مجموعی طور پر ۳.۸ فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اضافہ صرف تیل تک محدود ہے؟ جواب ہے نہیں، کیونکہ توانائی کے اثرات نے بتدریج خوراک، سفری کرایوں اور یہاں تک کہ کرایہ داری کی شرح کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے عام امریکی کو کتنا متاثر کیا ہے؟

یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں پٹرول کی اوسط قیمت ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے ۲.۹۴ ڈالر فی گیلن تھی جو اپریل کے آخر تک بڑھ کر ۴.۱۲ ڈالر ہو گئی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مارچ میں پٹرول کی قیمتوں میں اکیس فیصد کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد اپریل میں مزید پانچ اعشاریہ چار فیصد کی چھلانگ لگی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام امریکی کے لیے دفتر جانا، بچوں کو سکول چھوڑنا، اور روزمرہ کا سفر ایک عیش بن چکا ہے۔


خوراک اور توانائی کے علاوہ کن اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں؟

اگر صرف تیل ہی مہنگا ہوتا تو شاید بات سمجھ آتی، لیکن مہنگائی کی لہر نے کپڑوں، ہوائی کرایوں اور فرنیچر کی قیمتوں کو بھی نہیں بخشا۔ خاص طور پر ہوائی کرایوں میں اکیس فیصد کا زبردست اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ ایندھن کے بڑھتے اخراجات ہیں۔ بنیادی افراط زر جس میں خوراک اور توانائی کو شامل نہیں کیا جاتا، وہ بھی صفر اعشاریہ چار فیصد بڑھ کر ۲.۸ فیصد کی سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔


کیا فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کر سکے گا؟

ماہرین اقتصادیات کے مطابق اب فیڈرل ریزرو کے لیے موسم گرما میں شرح سود میں کمی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ جب تک افراط زر کی یہ شرح دو فیصد کے ہدف کے قریب نہیں آتی، مرکزی بینک اپنی سخت پالیسی جاری رکھے گا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو شاید ہمیں اس سال کے آخر تک بھی سود میں کمی دیکھنے کو نہ ملے۔


آئندہ مہینوں میں افراط زر کی شرح کیا رہے گی؟

اقتصادی تجزیہ کاروں کی پیش گوئی ہے کہ آنے والے ایک یا دو ماہ میں افراط زر چار فیصد کی سطح کو بھی پار کر سکتی ہے۔ آبنائے ہارمز کی بندش اور ایران جنگ کے خاتمے پر ہی یہ منحصر ہے کہ تیل کی قیمتیں کب نیچے آئیں گی۔

آبنائے ہارمز کی بندش کا عالمی تیل کی قیمتوں پر کیا اثر ہے؟

آبنائے ہارمز دنیا کے بیس فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ جب یہاں جنگی صورتحال کی وجہ سے ٹینکروں پر حملے ہوتے ہیں یا رسد رک جاتی ہے تو یہ صرف امریکہ ہی نہیں، پوری دنیا کے لیے افراط زر کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

آخر میں، موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ امریکی شہری پہلے ہی گزشتہ برسوں کی بلند مہنگائی سے تنگ آچکے تھے کہ ایران جنگ نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری جلد از جلد جنگ کے خاتمے کی کوشش کرے ورنہ یہ افراط زر پوری دنیا کی معیشت کو لپیٹ میں لے لے گا۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا امریکی افراط زر صرف جنگ کی وجہ سے بڑھی؟

جواب: اگرچہ جنگ بنیادی وجہ ہے، لیکن رہائش، مزدوری کی قلت اور رسد کی زنجیروں میں خلل نے بھی اس میں کردار ادا کیا ہے۔

سوال: کیا فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ کرے گا؟

جواب: امکان ہے کہ وہ موجودہ شرحوں کو برقرار رکھے گا کیونکہ جنگ کی وجہ سے مستقبل غیر یقینی ہے۔

سوال: خوراک کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟

جواب: اپریل میں گروسری کی اشیاء صفر اعشاریہ سات فیصد مہنگی ہوئیں، جبکہ گوشت اور تازہ سبزیوں کی قیمتوں میں خاصا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سوال: کیا یہ مہنگائی ختم ہو جائے گی؟

جواب: جب جنگ رکے گی اور آبنائے ہارمز دوبارہ کھل جائے گا، اس کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد افراط زر میں کمی آنا شروع ہوگی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

خرطوم سے بیجنگ تک: سوڈان کی مسلم برادرہڈ پر امریکی دہشت گردی کا لیبل اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار: ایک تاریخی فیصلہ؟