ایران کا خاتمہ: کیا مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا؟
تہران: جب ۲۸ فروری ۲۰۲٦ کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای کو نشانہ بنایا تو کسی نے شاید اندازہ نہیں لگایا ہو گا کہ مشرق وسطیٰ ایک ایسے سنگم پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ ایران کے ممکنہ خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نیا رخ اختیار کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک نئے عہد کا آغاز دیکھ رہے ہیں، یا ایران کا سیاسی ڈھانچہ اپنی تاریخ کے مشکل ترین امتحان کا سامنا کر رہا ہے؟ اگر ایران کا نظام گر جائے تو مشرق وسطیٰ میں کیا تبدیلی آئے گی؟ پروفیسر برنارڈ ہیکل، جو پرنسٹن یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے مطالعے کے ماہر ہیں، کا خیال ہے کہ ایرانی حکومت، اپنی موجودہ کمزوری کے باوجود، موجودہ جنگ سے نکل سکتی ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور نظام گر گیا تو صورتحال عراق، لیبیا اور شام سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ان ممالک کی طرح ایران میں بھی مرکزی حکومت کے زوال کا مطلب صرف سیاسی تبدیلی نہیں ہو گا بلکہ نسلی اور فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ ایران میں فا...