اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

امریکہ کا پاکستان پر نیا معاشی حملہ: جبری مشقت کے نام پر محصولات میں اضافہ

تصویر
یہ خبر پاکستانی کاروباری حلقوں میں ہلچل مچا گئی ہے۔ امریکہ نے جبری مشقت کے الزام پر پاکستان سمیت ۶۰ معیشتوں پر ۱۰ سے ۱۲.۵ فیصد تک نئے محصولات عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنی تجارتی پالیسی کو نئی شکل دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ درحقیقت، یہ محض تجارتی معاملہ نہیں بلکہ ایک سنگین سیاسی بیان بازی بھی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جبری مشقت کے الزامات میں کتنی حقیقت ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی پاکستان سمیت ان ۶۰ ممالک میں جبری مشقت کا مسئلہ اتنا سنگین ہے؟ امریکی محکمہ محنت کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے ٹیکسٹائل اور تعمیراتی شعبوں میں بچوں کی مشقت اور جبری مشقت کے خلاف قوانین تو بنائے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔ تاہم، پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی برآمدات پر کیا اثر پڑے گا؟ اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ محصولات پاکستان کی برآمدات کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حج...

خلیج کا مستقبل: نوجوانوں کی ترجیحات اور ابراہیم معاہدے کی اہمیت

تصویر
جب ہم مشرق وسطیٰ کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز یعنی نوجوان نسل کو دیکھتے ہیں، تو ایک واضح تصویر ابھرتی ہے۔ خلیجی ممالک کی ۶۰ فیصد سے زائد آبادی ۳۰ سال سے کم عمر ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو انٹرنیٹ، عالمگیریت اور مصنوعی ذہانت کے دور میں پلی بڑھی ہے۔ ان کے لیے نعرے اور نظریاتی جنگیں بے معنی ہو چکی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی حکومتیں انہیں معاشی مواقع فراہم کریں۔ گیٹ اسٹون انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق بتاتی ہے کہ خلیجی ممالک کی نئی حکمت عملی عوام کی انہی ترجیحات پر مبنی ہے، اور ابراہیم معاہدہ اسی خواہش کا آئینہ دار ہے۔ کیا خلیجی نوجوان امن یا تنازعہ چاہتے ہیں؟ یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے کیونکہ اس کا جواب خطے کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں کئی خلیجی ریاستوں میں کیے گئے نوجوانوں کے سروے کے مطابق، ۸۵ فیصد سے زائد خلیجی نوجوانوں نے "روزگار اور معاشی تحفظ" کو اپنی اولین ترجیح بتایا۔ صرف ۷ فیصد نے "فلسطین یا ایران کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی" کو اہم قرار دیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خلیجی معاشرے کا رجحان انتہا پسندی سے دور ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا ترقیاتی نمونہ کیا ہے؟ متح...