خلیج کا مستقبل: نوجوانوں کی ترجیحات اور ابراہیم معاہدے کی اہمیت


جب ہم مشرق وسطیٰ کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز یعنی نوجوان نسل کو دیکھتے ہیں، تو ایک واضح تصویر ابھرتی ہے۔ خلیجی ممالک کی ۶۰ فیصد سے زائد آبادی ۳۰ سال سے کم عمر ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو انٹرنیٹ، عالمگیریت اور مصنوعی ذہانت کے دور میں پلی بڑھی ہے۔ ان کے لیے نعرے اور نظریاتی جنگیں بے معنی ہو چکی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی حکومتیں انہیں معاشی مواقع فراہم کریں۔ گیٹ اسٹون انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق بتاتی ہے کہ خلیجی ممالک کی نئی حکمت عملی عوام کی انہی ترجیحات پر مبنی ہے، اور ابراہیم معاہدہ اسی خواہش کا آئینہ دار ہے۔

کیا خلیجی نوجوان امن یا تنازعہ چاہتے ہیں؟

یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے کیونکہ اس کا جواب خطے کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں کئی خلیجی ریاستوں میں کیے گئے نوجوانوں کے سروے کے مطابق، ۸۵ فیصد سے زائد خلیجی نوجوانوں نے "روزگار اور معاشی تحفظ" کو اپنی اولین ترجیح بتایا۔ صرف ۷ فیصد نے "فلسطین یا ایران کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی" کو اہم قرار دیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خلیجی معاشرے کا رجحان انتہا پسندی سے دور ہو رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا ترقیاتی نمونہ کیا ہے؟

متحدہ عرب امارات نے اس رجحان کو بہت پہلے بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے "تیل کے بعد کے دور" کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جس کے تحت وہ اپنی معیشت کو تیل سے ہٹا کر ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، سیاحت اور مصنوعی ذہانت پر منتقل کر رہے ہیں۔ ابراہیم معاہدے میں شامل ہو کر انہوں نے اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر لی، جس سے ان کی ترقی میں مزید تیزی آگئی۔ یہ نمونہ یہ ثابت کرتا ہے کہ امن صرف ایک اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت بھی ہے۔

کیا ابراہیم معاہدے نے واقعی خطہ بدل دیا ہے؟

جی ہاں۔ ابراہیم معاہدے سے پہلے، خلیجی ممالک اور اسرائیل کے درمیان خفیہ تعلقات تھے لیکن اب یہ تعلقات کھلے اور مضبوط ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں خلیجی ممالک کو پانی کی ٹیکنالوجی، زراعت، سائبر سلامتی اور صحت کے شعبوں میں غیر معمولی ترقی ملی ہے۔ اس کے علاوہ، اس معاہدے نے ایران کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ خلیجی ممالک اب تنہا نہیں ہیں۔

ایرانی حکومت کے پراکسی نیٹ ورک سے کیا نقصان ہے؟

ایرانی حکومت نے پوری مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا جال بنا دیا ہے جس کے دھاگے یمن، عراق، شام اور لبنان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ پراکسی نیٹ ورک خلیجی ممالک کے اندرونی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جب بھی خلیج میں کوئی بڑا معاشی منصوبہ شروع ہوتا ہے، یہ نیٹ ورک اس میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً یمن میں حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون اور میزائل حملے۔

سوالات و جوابات

سوال: کیا خلیجی حکومتیں ایرانی عوام کے خلاف ہیں؟
جواب: ہرگز نہیں۔ خلیجی حکومتیں صرف ایرانی انقلابی گارڈز کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ وہ ایرانی عوام کے ساتھ بہترین تعلقات چاہتی ہیں اور لاکھوں ایرانی خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔

سوال: کیا اسٹریٹجک ابہام کی پالیسی ختم ہو رہی ہے؟
جواب: جی ہاں، اب خلیجی ممالک کے لیے دونوں طرف توازن برقرار رکھنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ انہیں اب واضح طور پر اپنا مؤقف پیش کرنا ہوگا۔

سوال: کیا خلیجی نوجوان اسرائیل کے ساتھ تعلقات چاہتے ہیں؟
جواب: خلیجی نوجوان اسرائیل سے محبت یا نفرت نہیں کرتے۔ وہ صرف اپنی معاشی ترقی چاہتے ہیں۔ اگر اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے انہیں نوکریاں اور ٹیکنالوجی ملتی ہے، تو وہ اس کے حق میں ہیں۔

سوال: کیا ابراہیم معاہدے کا فلسطینیوں پر منفی اثر پڑا ہے؟
جواب: یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے نے فلسطینی مسئلے کو نظر انداز کیا، جبکہ خلیجی حکومتوں کا مؤقف ہے کہ معاشی ترقی کے بعد ہی فلسطینیوں کی حقیقی مدد کی جا سکتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، عوام پر بجھ بڑھنے کا خطرہ

عید الفطر کی رحمت: کیسے ایک خط نے بدل دی امریکی شہری کی تقدیر؟