مڈل مین کا نیا چہرہ - فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کو علاقائی ثبات کا مرکز کیسے بنا دیا


جب عالمی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں اور خلیج میں جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، ایک ایٹمی طاقت نے خاموشی سے خود کو "مڈل مین" کے طور پر قائم کر لیا۔ یہ پاکستان ہے، اور اس سفارتی انقلاب کے مرکز میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کھڑے ہیں ۔ وہ شخص جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا "فیورٹ فیلڈ مارشل" قرار دیا، آج پاکستان کو ایک ایسے استحکام کی طرف لے جا رہا ہے جو برسوں بعد نظر آیا ہے۔


فیلڈ مارشل عاصم منیر کون ہیں اور انہیں یہ تاریخی اعزاز کیوں دیا گیا؟

فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کی فوجی تاریخ کے دوسرے شخص ہیں جنہیں یہ بالائی ترین پانچ ستارہ عہدہ دیا گیا ۔ یہ اعزاز محض رسمی نہیں بلکہ ایک تاریخی ضرورت تھی۔ مئی ۲۰۲۵ میں، پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ چار روزہ مختصر جنگ میں پاکستان نے نہ صرف اپنی فضائی حدود کا دفاع کیا بلکہ تین رافیل طیارے مار گرانے سمیت بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جنہیں آپریشن آئرن وال کی کامیابی کا ہیرو سمجھا جاتا ہے، اس جنگ کے بعد پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز بھی بنائے گئے ۔


پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کیسے کی؟

جہاں کئی ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر قابو پانے کی کوشش کی، وہیں پاکستان نے ایک منفرد کردار ادا کیا۔ اپریل ۲۰۲۶ میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ۔ یہ دورہ اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ جنگ بندی ممکن ہو سکی ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں انکشاف کیا کہ فیلڈ مارشل خود تہران سے واشنگٹن تک "بیک چینل" پر کام کر رہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا "شکریہ پاکستان" کے نعرے لگا رہی ہے ۔ پاکستان واحد ملک ہے جس پر دونوں فریقین کو بھروسہ ہے - ایک جانب امریکہ اور دوسری جانب ایران۔


فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان-سعودی عرب دفاعی معاہدہ

ستمبر ۲۰۲۵ میں ایک ایسا معاہدہ ہوا جس نے خطے کا مکمل جیومیٹری بدل دیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے اسٹریٹجک میچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے، جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملے کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا ۔ اس معاہدے کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اپنی پرانی روایتی دوستیوں کو برقرار رکھتے ہوئے نئی راہیں نکال رہا ہے؟ جواب ہاں میں ہے - پاکستان اب "پل بنانے والا" ملک ہے۔


کیا پاکستان واقعی مشرق وسطیٰ میں امن کا ضامن بن سکتا ہے؟

اگرچہ پاکستان کے اندر معاشی مسائل برقرار ہیں - مہنگائی ۷.۳ فیصد اور بے روزگاری ۶.۹ فیصد - لیکن بیرونی محاذ پر کامیابیاں ناقابل تردید ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خرم دستگیر خان کے مطابق، "ریلیونس (اہمیت) کوئی مستقل حالت نہیں ہے؛ یہ صحیح وقت پر کارآمد ہونے سے پیدا ہوتی ہے" ۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بیک وقت تہران، ریاض، واشنگٹن اور بیجنگ سے بات کر سکتا ہے۔

امریکی ماہر لاری واٹکنز کے مطابق، "پاکستان کی اہلیت اس لیے ہے کہ یہ مستقل طور پر کسی ایک اتحاد کا حصہ نہیں ہے، بلکہ دونوں طرف سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے" ۔ درحقیقت، یہی وہ خصوصیت ہے جو پاکستان کو چین اور امریکہ کے درمیان بھی ایک پل بناتی ہے، حالانکہ اس پر بھارت کی طرف سے شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے .


پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے پیچھے کیا حکمت عملی ہے؟

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا طریقہ کار "لین دین پر مبنی سفارت کاری" ہے - جہاں تعلقات کو فائدے اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے ۔ وہ ذرائع ابلاغ کی توجہ سے بچتے ہیں لیکن پردے کے پیچھے سخت محنت کرتے ہیں۔ چین کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری جاری ہے، ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن پر کام ہو رہا ہے، اور امریکہ کے ساتھ نئے معاہدوں پر بات چیت چل رہی ہے ۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف علاقائی ثبات کا مرکز بنے گا بلکہ ایک معاشی طاقت کے طور پر بھی ابھرے گا۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی صدر کا "فیورٹ فیلڈ مارشل" کیوں کہا جاتا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عاصم منیر کی عملی اور غیر جانبدارانہ سفارت کاری کو سراہتے ہوئے انہیں یہ لقب دیا۔ ٹرمپ کی لین دین پر مبنی سفارت کاری سے ان کا انداز ملتا ہے، جس کی وجہ سے دونوں رہنماؤں کے درمیان اعتماد پیدا ہوا .

سوال: کیا پاکستان کی یہ سفارتی کامیابیاں معاشی بحران کے باوجود ممکن ہوئیں؟

جی ہاں۔ اندرونِ ملک مہنگائی اور بیرونی قرضوں کے باوجود، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بیرونی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں، جنہیں عالمی ذرائع ابلاغ سراہ رہے ہیں ۔

سوال: بھارت کے ساتھ ۲۰۲۵ کی مختصر جنگ میں کیا ہوا تھا؟

اپریل ۲۰۲۵ میں پہلگام حملے کے بعد، پاکستان نے آپریشن آئرن وال شروع کیا۔ پاکستان نے چھ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جس کے بعد جنگ بندی ہوئی اور عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی ۔

سوال: کیا پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی جاری رکھے گا؟

جی ہاں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک پرامن مذاکرات کا کوئی منطقی نتیجہ نہیں نکل آتا، پاکستان ثالثی جاری رکھے گا ۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آبنائے ہرمز میں 'خود تیل لے لو': ٹرمپ کا متنازعہ بیان جس نے اتحادیوں میں ہلچل مچا دی

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، عوام پر بجھ بڑھنے کا خطرہ

عید الفطر کی رحمت: کیسے ایک خط نے بدل دی امریکی شہری کی تقدیر؟