عاصم منیر کے تہران دورے سے کیا بدلے گا؟ – تجزیہ
مشرق وسطیٰ میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور امریکہ ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان کی ایران امریکہ ثالثی کوششیں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا تہران کا دورہ ایسے نازک موڑ پر ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ "مکمل طور پر درست جوابات" فراہم نہ کرے تو فوجی کارروائی بہت جلد ہو سکتی ہے۔ درحقیقت، پاکستان نے خود کو اس تنازع میں ایک ناگزیر سفارتی پل کے طور پر کھڑا کر لیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ثالثی کامیاب ہو پائے گی یا پاکستان بڑی طاقتوں کی شطرنج میں مہرہ ثابت ہو گا؟
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کیوں کر رہا ہے؟
پاکستان کے لیے یہ ثالثی محض سفارتی حسنِ اخلاق نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان کی معیشت خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر پر منحصر ہے، جہاں تقریباً ڈیڑھ ملین پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ پاکستان کی طویل سرحدی حدود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ اگر یہ تنازع بڑھتا ہے تو اس کے براہِ راست اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ اسی لیے پاکستان نے مارچ ۲۰۲۴ میں "اسلام آباد ٹاکس" کی میزبانی کر کے خود کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا۔
مزید برآں، تاریخی اعتبار سے بھی پاکستان نے بڑی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔ سن ۱۹۷۱ میں ہنری کسنگر کے چین کے دورے میں پاکستان کا کردار اس کی سفارتی صلاحیتوں کی بہترین مثال ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب عمان اور قطر جیسے روایتی ثالث اپنی مصروفیات کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے، تو پاکستان قدرتی طور پر اگلا بہترین آپشن ثابت ہوا۔
جنرل عاصم منیر کا تہران کا دورہ اتنا اہم کیوں ہے؟
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا یہ دورہ محض رسمی نہیں بلکہ فیصلہ کن نوعیت کا ہے۔ خبر رساں ادارے "آنادولو" کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس دورے کا مقصد "عبوری معاہدے" پر حتمی بات چیت کرنا ہے۔ اس معاہدے میں تین اہم نکات شامل ہیں: فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا خاتمہ، اور اگلے ۳۰ دنوں میں جوہری مذاکرات کا انعقاد۔
یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے پہلے پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی دو بار تہران جا چکے ہیں اور انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ فوجی قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان ملاقاتوں کے دوران امریکہ کا ۱۵ نکاتی مجوزہ معاہدہ ایران کے سامنے رکھا گیا۔ اب جب کہ عیدالاضحیٰ قریب ہے، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو تہوار کے بعد براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔
🔺 Pakistani Army Chief To Travel to Tehran as Iran Prepares Response to U.S. Proposal — ISNA
— Drop Site (@DropSiteNews) May 21, 2026
🔸Iran’s ISNA news agency reported Thursday that Pakistan’s Army Chief Field Marshal Asim Munir is set to visit Tehran today to advance mediation efforts between Iran and the United… pic.twitter.com/89phK0qCJT
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو کیا نقصان پہنچے گا؟
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی مجموعی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ایران کی طرف سے اس آبنائے کی بندش نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔
ماہرین معیشت کے مطابق اگر یہ بحران مزید بڑھا تو عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہو گا جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال دوہری تباہی کی حامل ہے: ایک طرف درآمدی تیل مہنگا ہو گا اور دوسری طرف خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس بحران کے خاتمے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنا چاہتا۔
کیا پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی امن معاہدہ کرا سکتا ہے؟
یہ سوال آج کل ہر تجزیہ کار کی زبان پر ہے۔ ایک طرف تو پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی سفارتی اہمیت منوائے، لیکن دوسری طرف اس کے سامنے بہت سے چیلنجز بھی ہیں۔ آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ساختی تضادات پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ سی پیک جیسے منصوبے ہیں۔
تاہم، روس نے پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جو اس سفارتی عمل میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایران نے امریکی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت مانگا ہے، جس کی وجہ سے جنرل عاصم منیر کا دورہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔ لیکن اب ایک بار پھر اس دورے کے حوالے سے مثبت خبریں ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت "چہرے بچانے والے معاہدے" پر کام کر رہا ہے تاکہ دونوں فریقوں کو فوری تصادم سے بچایا جا سکے۔ اگر یہ عارضی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے مستقبل میں طویل مدتی امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ثالثی کی ناکامی پاکستان کے لیے کیوں خطرہ بن سکتی ہے؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی یہ ثالثی ناکام ہوتی ہے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے بڑے اتحادیوں کے درمیان پھنس کر رہ جائے گا۔ پہلے ہی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان کی وشوسنییتا پر سوالیہ نشان لگا دیے تھے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو پاکستان کو ان تمام فریقوں کی جانب سے ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کے درمیان وہ ثالثی کر رہا تھا۔
مزید برآں، بھارت جیسا حریف ملک بھی پاکستان کی ثالثی کو کمزور کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے ایک طرف مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام اور دوسری طرف بھارت کے ساتھ اپنی سیکیورٹی برقرار رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ ناکام ثالثی کی صورت میں پاکستان کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا لگے گا اور وہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگے گا جس نے بڑی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں خود کو الجھا لیا۔
عملی نتائج اور مستقبل کی راہ
آخرکار، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ ثالثی کامیاب ہوگی یا نہیں۔ لیکن اتنا طے ہے کہ پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ مارچ ۲۰۲۴ میں پاکستان ہی وہ واحد ملک تھا جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کروائے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان نے جنگ بندی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
چند روز میں عیدالاضحیٰ ہے اور اس کے بعد ممکن ہے کہ ہمیں اس ثالثی کے حقیقی نتائج دیکھنے کو ملیں۔ اگر معاہدہ طے پا گیا تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی خبر ہوگی۔ لیکن اگر یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو پھر خطے کو ایک تباہ کن جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی سفارتی صلاحیتوں سے دونوں بڑی طاقتوں کو راضی کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا یہ ثالثی پاکستان کے لیے ایک اور مشکل امتحان ثابت ہوتی ہے؟
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
جواب: پاکستان کی معیشت اور سلامتی دونوں خطے کے استحکام سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد اور خلیجی ممالک سے ترسیلات زر کی وابستگی پاکستان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اس تنازع کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
جواب: یہ دورہ عارضی معاہدے پر حتمی شکل دینے کے لیے کیا جا رہا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنا، ناکہ بندی ختم کرنا اور جوہری مذاکرات شروع کرنا شامل ہے۔
جواب: آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، جس سے پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور خلیجی ممالک سے ترسیلات زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
جواب: ذرائع کے مطابق عیدالاضحیٰ کے بعد اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کی توقع ہے، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know