یورپ کے اندر ایرانی جاسوسی نیٹ ورک: کیا سفارتی چھپ ختم ہونے والی ہے؟
یورپ کی خوبصورت گلیوں اور پارلیمانی عمارتوں میں ایک ایسی جنگ چھڑی ہوئی ہے جسے عام آدمی نہیں دیکھ سکتا۔ یہ جنگ روایتی ہتھیاروں سے نہیں لڑی جا رہی بلکہ سفارتی بیجز، خفیہ ملاقاتوں اور جعلی شناختوں کے ذریعے۔ یہ ایران کی نام نہاد "خاموش جنگ" ہے جو یورپ کے اندر گہرائی تک پھیل چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں یورپی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے متعدد ایسے نیٹ ورکس کا پردہ چاک کیا ہے جو ایرانی سفارت خانوں کی آڑ میں کام کر رہے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپ آخر کار ایران کے اس خفیہ جال کو مکمل طور پر بے نقاب کر پائے گا؟
جب سفارت خانے جاسوسی کے اڈے بن گئے
سفارتی مشنز کو بین الاقوامی قانون میں خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ یہ تحفظ وینا کنونشن کے تحت دیا جاتا ہے تاکہ سفارت کار بغیر کسی خوف کے اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔ لیکن ایران نے اس تحفظ کا استعمال اپنے فوجی مقاصد کے لیے کیا ہے۔ ایک خفیہ دستاویز کے مطابق جو حال ہی میں منظر عام پر آئی، یورپ میں تعینات ایران کے متعدد فوجی اتاشی دراصل آئی آر جی سی کے فعال افسران ہیں۔ یہ افراد سفارتی استثنیٰ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپ میں جاسوسی، فنڈ اکٹھا کرنے اور ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
جرمن انٹیلیجنس نے گزشتہ سال اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ ایران نے یورپ میں اپنے "سلیپر سیلز" کو فعال کر دیا ہے۔ یہ وہ خفیہ نیٹ ورکس ہیں جو اپنے حکم ملنے تک خاموش رہتے ہیں اور پھر اچانک متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد جرمنی نے متعدد ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا تھا۔
کون سے یورپی ممالک سب سے زیادہ خطرے میں ہیں؟
برطانیہ اور جرمنی ان ممالک میں سرفہرست ہیں جہاں ایران کی سرگرمیاں سب سے زیادہ فعال بتائی جاتی ہیں۔ لندن میں تعینات ایرانی سفارت خانے کو طویل عرصے سے یورپ میں ایران کے خفیہ آپریشنز کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔ برطانوی انٹیلیجنس (ایم آئی ۵) نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ ایران نے برطانیہ میں کم از کم ۱۰ ایسے خفیہ اہداف بنائے ہیں جن میں برطانوی-ایرانی شہری اور مخالف صحافی شامل ہیں۔
اسی طرح فرانس اور نیدرلینڈز میں بھی ایرانی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ نیدرلینڈز کی انٹیلیجنس نے ثبوت فراہم کیے ہیں کہ ایرانی ایجنٹوں نے ڈچ سرزمین پر دو ایرانی مخالف گروپوں کے ارکان کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے لیے یورپ کی سرحدیں کوئی رکاوٹ نہیں ہیں۔
اگرچہ متحدہ عرب امارات نے اس قسم کی کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے سے قطعی طور پر انکار کیا ہے اور وہ خطے میں استحکام کے لیے پرعزم ہے، لیکن یورپی ممالک کو ایران کے "تیسرے ممالک" کے ذریعے کارروائیاں کرنے کا بھی خدشہ ہے۔
عالمی اثرات: کیا صرف یورپ ہی نشانہ ہے؟
یہ سمجھنا غلطی ہو گا کہ ایران کے یہ خفیہ نیٹ ورک صرف یورپ تک محدود ہیں۔ درحقیقت ایران کا یہ ماڈل پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ افریقہ میں، خاص طور پر سوڈان، تنزانیہ اور سینیگال جیسے ممالک میں ایرانی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ یہاں ایران اپنے سفارتی مشنز کے ذریعے مقامی گروپوں سے روابط بنا رہا ہے اور علاقائی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔
افریقہ میں ایران کی بڑھتی ہوئی موجودگی یورپ کے لیے براہ راست خطرہ ہے کیونکہ غیر مستحکم افریقی ممالک سے یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کے ذریعے ایران اپنے ایجنٹ یورپ میں داخل کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس اور اطالیہ نے حال ہی میں شمالی افریقہ میں اپنی انٹیلیجنس کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
EXCLUSIVE: German intelligence warns Iran could expand terror operations in Europe after war https://t.co/AYN84DnJOm pic.twitter.com/9eXbTUHxIj
— Euractiv (@Euractiv) May 19, 2026
کیا یورپ اس خاموش جنگ کے لیے تیار ہے؟
یورپ نے ابھی تک ایران کے خلاف جو اقدامات کیے ہیں، وہ زیادہ تر دفاعی نوعیت کے ہیں۔ سفارت کاروں کو نکالنا، پابندیاں لگانا، اور انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھانا — یہ سب ضروری ہیں لیکن کافی نہیں۔ ایران اپنے خفیہ نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ جیسے ہی ایک راستہ بند ہوتا ہے، وہ دوسرا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔
جرمنی کے انٹیلیجنس سربراہ نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ "ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کے بغیر یورپ خطرناک حد تک کمزور رہے گا"۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یورپ ایک مربوط اور جارحانہ حکمت عملی اپنائے جس میں نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی اور ٹیکنالوجیکل محاذوں پر بھی ایران پر دباؤ ڈالا جائے۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایران یورپ کے اندر اپنا خفیہ جال مزید پھیلاتا رہے گا اور اگلا بڑا واقعہ کبھی بھی پیش آ سکتا ہے۔ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور یورپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ صرف ردعمل دینے والا کھلاڑی رہے گا یا پھر خود کو فعال طور پر محفوظ کرے گا۔
عمومی سوالات (FAQs)
سوال: یورپ میں ایرانی جاسوسی نیٹ ورکس کیسے کام کر رہے ہیں؟
یہ نیٹ ورکس زیادہ تر سفارتی تحفظ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ آئی آر جی سی کے افسران سفارتی بیجز کے ساتھ یورپ میں داخل ہوتے ہیں اور جاسوسی، فنڈ اکٹھا کرنے اور مخالفین کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کرتے ہیں۔
سوال: کیا برطانیہ اور جرمنی ایران کے خلاف اپنی انٹیلیجنس کارروائیاں بڑھا رہے ہیں؟
جی ہاں، ایم آئی ۵ نے حال ہی میں برطانیہ میں ایران کے ۱۰ اہداف کا انکشاف کیا ہے جبکہ جرمنی نے متعدد ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کیا ہے اور انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھا دی ہے۔
سوال: افریقہ میں ایران کی موجودگی یورپ کے لیے کتنی خطرناک ہے؟
افریقہ غیر مستحکم ہے اور یہاں ایران اپنے نیٹ ورکس کو آسانی سے پھیلا سکتا ہے۔ غیر قانونی نقل مکانی کے راستوں کا استعمال کرتے ہوئے ایران اپنے ایجنٹ یورپ میں داخل کر سکتا ہے، جو کہ ایک سنگین خطرہ ہے۔
سوال: کیا یورپ ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے؟
فی الحال یورپ اپنی پالیسی میں سفارتی اور انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیوں پر یقین رکھتا ہے۔ فوجی کارروائی بہت دور کی بات ہے اور اس کے لیے نیٹو یا اقوام متحدہ کی منظوری درکار ہوگی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know