امریکہ، پاکستان اور کشمیر: سفارتی تنازع کی پس پردہ کہانی
امریکہ، پاکستان اور کشمیر: سفارتی تنازع کی پس پردہ کہانی
19 اگست 2026 کو نئی دہلی میں تعینات امریکی سفیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بالائی و وسطی ایشیا کے لیے خصوصی نمائندے سرجیو گور نے سری نگر، مقبوضہ جموں و کشمیر کا دو روزہ دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران مقبوضہ علاقے کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جموں و کشمیر کو انڈیا کا "اہم حصہ" قرار دیا۔ اس بیان کے فوراً بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ایک نیا سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا۔
امریکی سفیر سرجیو گور کا یہ بیان واشنگٹن کی دیرینہ سفارتی پالیسی سے انحراف کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ واشنگٹن کو خطے میں اپنے بیانات دیتے وقت بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کس طرح بھارت کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنے سفارتی توازن کو برقرار رکھنے میں چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
جموں و کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ جب تک واشنگٹن جیسے عالمی طاقتیں اپنے بیانات میں شفافیت اور غیر جانبدارانہ موقف برقرار نہیں رکھیں گی، خطے میں سفارتی تناؤ برقرار رہے گا۔
FAQs
س: پاکستان نے امریکی ناظم الامور کو کیوں طلب کیا؟
ج: امریکی سفیر سرجیو گور کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دینے والے غیر ذمہ دارانہ بیان پر شدید احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے۔
س: اس معاملے پر پاکستان کا بنیادی موقف کیا ہے؟
ج: پاکستان کا موقف ہے کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل طلب بین الاقوامی متنازع علاقہ ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know