سندھ طاس معاہدہ: پاکستان کا موقف اور بین الاقوامی قانون
سندھ طاس معاہدہ اور پاک بھارت تعلقات: قانونی حیثیت اور علاقائی سلامتی
سندھ طاس معاہدہ Indus Waters Treaty چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان اور بھارت کے مابین مشترکہ آبی وسائل کی تقسیم کا ایک مستحکم اور باضابطہ فریم ورک رہا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ آج بھی مکمل طور پر قابلِ عمل، قانونی طور پر پابند اور نافذ العمل ہے۔ بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں پاہلگام واقعے کے بعد معاہدے کو ایک طرفہ طور پر التوا abeyance میں ڈالنے کا اقدام بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ چھ دریاؤں کی تقسیم کا احاطہ کرتا ہے، جس کے تحت تین مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو اور تین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو تفویض کیے گئے تھے۔ تاہم، مئی 2025 میں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ملٹری تصادم اور اس کے بعد ہونے والی بندی کے باوجود بھارت نے معاہدے کو معطل رکھا ہوا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ معاہدے میں کوئی ایسی شق موجود نہیں جو کسی بھی فریق کو ایک طرفہ معطلی کا اختیار دیتی ہو۔
خبر رساں ادارے DAWN کے مطابق اسحاق ڈار نے متنبہ کیا کہ پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوشش کے علاقائی امن و سلامتی پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ نیوز پورٹل Pakistan Today نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت (Court of Arbitration) کے ذریعے قانونی چارہ جوئی جاری رکھی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک طرفہ اعلا نیے سے باہمی قانون ختم نہیں ہوتا۔ جبکہ Arab News کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھاتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مشترکہ آبی وسائل کے تحفظ اور بین الاقوامی معاہدو ں کی پاسداری کو یقینی بنائے۔
سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کی تقسیم کا ذریعہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں استحکام کی ضمانت ہے۔ کیا عالمی برادری اور بین الاقوامی قانونی ادارے بھارت کو اس تاریخی معاہدے کی روح کے مطابق عمل درآمد پر مجبور کر سکیں گے؟
FAQs
کیا بھارت سندھ طاس معاہدے کو ایک طرفہ طور پر منسوخ کر سکتا ہے؟
نہیں، بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی شقوں کے تحت کوئی بھی فریق اسے ایک طرفہ طور پر التوا یا معطل نہیں کر سکتا۔
کشن گنگا اور رتلے تنازع پر پاکستان کا کیا موقف ہے؟
پاکستان نے ان بھارتی منصوبوں کے خلاف دی ہیگ کی ثالثی عدالت سے رجوع کر رکھا ہے اور قانونی طریقے سے اپنے حق کے دفاع کے لیے کوشاں ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubt .Please let me know